بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

تین سال کا آڈٹ ہوچکا ہے، کوئی خردبرد سامنے نہیں آئی،چیئرمین نیب

چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ نیب کو متنازع بنارہے ہیں، نیب کرنسی کی صورت میں رقم ریکور نہیں کرتا اور ادارے کے آڈٹ میں بھی کوئی خرد برد سامنے نہیں آئی۔

لاہور میں ریکوریز کی ادائیگی سے متعلق تقریب میں جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ کرپشن نے ہمارے ملک کو اس قدر بگاڑ دیا ہے کہ ایک عام شہری کے لیےجسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔

انہوں نے اپنے چار سال کی مدت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار سالوں ایک ہزار 270 کیسز کے ریفرنسز عدالتوں میں دائر کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پر یہ الزام ہے کہ نیب کے کیسز کا کوئی منتقی اختتام نہیں ہے، میں وضاحت کرتا ہوں کہ نیب کے کیسز کا اختتام اس وقت ہی ہوجاتا ہے جب کیسز عدالتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کے کیسز پر فیصلہ دینا احتساب عدالتوں کا کام ہے، کیونکہ ہمارے پاس عدالتیں کم ہے اس لیے چیف جسٹس آف پاکستان نے عدالتوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے نئے قوانین بھی تشکیل دیے ہیں ، اب روزانہ کی بنیاد پر کیسز حل کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہ جو ایک ہزار 270 ریفرنسز ہے ان میں 13 ارب زائد کی رقم کی خرد برد کی گئی ہے۔

چئیرمین نیب کا کہنا تھا کہ ایک چائے کی پیالی کا تنازعہ اٹھایا گیا جس میں کہا گیا کہ نیب جتنی رقم ریکور کرتا ہے کہاں جاتی ہے، تومیں یہ بتانا چاہوں گا کہ نیب کرنسی کی صورت میں رقم ریکور نہیں کرتا، اربوں روپوں کی اراضی سے قبضے چھڑوائےگئے اور مستحقین کو فراہم کیے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو کئی ٹن گندم ریکور کروا کر دی گئی، ہم یہ رقم جمع نہیں کرتے بلکہ آپ کی امانت ہے جو لوٹائی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کا تین سال کا آڈٹ ہوچکا ہے، اس میں کوئی خرد برد سامنے نہیں آئی۔

جاوید اقبال نے کہا کہ کچھ لوگ نیب کو متنازع بنا رہے ہیں یہ سوچتے تھےکہ ان کی خرد برد کبھی سامنے نہیں آئی گی، کچھ لوگ کہتے ہیں نیب کے عہدیداران رشوت لیتے ہیں اور اس کے ثبوت میرے پاس موجود ہیں تو میں ان سے کہوں گا کہ ثبوت پیش کریں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔

ان کاکہنا ہے کہ الزام لگانا آسان ہے لیکن اس پر ثبوت پیش کرنا بہت مشکل ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کسی بھی الزام پر افسران کو گھر بھیج دیں، اس کے کچھ قواعد ہیں اور کے تحت ہی کام کیا جاتا ہے ، ہم نیب میں دیانت، ذہانت اور امانت کے اصول متعارف کروائیں اور اس ہی وجہ سے ہم ریکوائریاں کر کے آپ کو لوٹا رہے ہیں۔

تاجروں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا تاجر اور رہزن میں فرق ہوتا ہے لہٰذا تاجر برادری سے ہم نے ان کالی بھیڑوں کو نکالا جنہوں نے رہزنوں کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا، آج تک جتنے ریفرنسز بنے وہ ہواؤں میں نہیں بنائے گئے لیکن ریفرنسز کی جانچ دوبارہ کی جارہی ہے، نیب کے حالات پہلے سے بہت بہتر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ نیب پر الزامات لگاتے ہیں ان کو کہنا چاہوں گا کہ نیب نے جو ریفرینسز دائر کیے ہیں تمام تر قانونی ہیں اور یہ ریاست مدینہ کے خواب کو پورا کرنے کے لیے ایک قدم ہے جس کے لیے ہم سب کو خود احتسابی کی ضرورت ہے۔

متاثرین سے مکالمہ کرتے ہوئے چئیرمین نیب نے ہدایت دی کہ جس زمین پر آپ سرمایہ کر رہے ہیں اس کے بارے میں معلوم جمع کریں جس زمین پر اتنا بڑا منصوبہ بنایا جارہا ہے، کیا منصوبہ بنانے والوں کے پاس اتنی بڑی زمین موجود ہے، یہ زمین منظور شدہ ہے یا اس پر کوئی مقدمہ تو نہیں چل رہا ہے اور منصوبہ پیش کرنے والا شخص اس کا اصل مالک ہے یا نہیں اور سوسائٹی میں کسی قسم کی کوئی قدغن تو نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں کسی ادارے پر تنقید نہیں کر رہا، لیکن یہ سسٹم کا مسئلہ یہ تبدیلی آہستہ آہستہ عمل میں آئے گی۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button