بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

گنے کے کاشتکاروں کا حکومت کیخلاف سڑکوں پر آنے کا اعلان

شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو آئندہ چند روز کے دوران پنجاب اسمبلی کے باہر لالٹین اٹھا کر احتجاج کیا جائے گا

شوگر ایکٹ پر تحفظات کے باعث گنے کے کاشتکاروں نے حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کا اعلان کردیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت کی جاری ہونے والے ایکٹ میں شوگر ملز کو نیا کرشنگ سیزن 30 نومبر تک شروع کرنے کی اجازت دینے کے علاوہ کرشنگ سیزن تاخیر سے شروع کرنے پر عائد جرمانہ جو 5 لاکھ روپے یومیہ تھا اسے بھی ختم کر دیا گیا جب کہ پرانے آرڈیننس میں شوگر ملز کو گنا فروخت کر کے ملنے والی رسید سی پی آر کو چیک کا درجہ دیا گیا تھا اور 15 روز کے اندر اندر اس سی پی آر کی ادائیگی نہ کرنے والی شوگر ملز کے مالک کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے

تاہم اب نئے ایکٹ میں شوگر ملز مالکان کو نومبر سے لے کر کسی بھی مہینے میں خریدے گئے گنے کی ادائیگی 30 جون تک کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جس سے کسانوں کے مالی بحران میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے اربوں روپے ڈوبنے کے خدشات بھی مزید بڑھ جائیں گے کیوں کہ اس سے پہلے ادائیگیاں نہ کرنے والے شوگر ملز مالکان کے خلاف کین کمشنر کو کارروائی کرنے کا اختیار دیا گیا تھا جو کہ اب واپس لے لیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ پرانے آرڈیننس میں ناجائز کٹوتیاں کرنے والے شوگر ملز مالکان کے خلاف شکایات کی صورت میں فوجداری مقدمات قائم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے جو کہ اب نئے ایکٹ میں واپس لے لئے گئے ہیں جس سے گنے کے کاشتکاروں کو ایک بار پھر شوگر ملز مالکان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، اس کے خلاف کاشت کار تنظیموں کے رہنماں چوہدری محمد یسین، سید محمود الحق بخاری، ملک جنید اسلم نائچ، جمیل ناصر چوہدری، چوہدری نصیر وڑائچ و دیگر نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس نئے ایکٹ کو کسانوں کے معاشی قتل کے مترادف قرار دیا اور وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا، انہوں نے کہا کہ اگر مذکورہ شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو آئندہ چند روز کے دوران پنجاب اسمبلی کے باہر لالٹین اٹھا کر احتجاج کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button