بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

مون سون بارشیں اور سیلاب: وزیراعظم کی تمام اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور ہر ممکن ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

اسلام آباد میں مون سون بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو ہدایت دی کہ وہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھے اور موسم کی پیش گوئی اور مون سون سے متعلق معلومات بروقت تمام متعلقہ اداروں تک پہنچائے۔

وزیراعظم نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کو ہدایت کی کہ وہ فلڈ کمیٹی کے روزانہ اجلاسوں کی صدارت کریں تاکہ بدلتی ہوئی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا سکے اور مؤثر حکمت عملی مرتب کی جائے۔

انہوں نے شمالی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOFs) اور اچانک آنے والے سیلاب سے متعلق ابتدائی وارننگ سسٹم کو ہر وقت فعال رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے عالمی اخراج میں پاکستان کا حصہ نہایت کم ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل المدتی اقدامات پر تیزی سے عمل کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے این ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ مون سون کے دوران انسانی جانوں اور املاک کے نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔

اجلاس کو این ڈی ایم اے اور چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز نے حالیہ مون سون بارشوں، نقصانات اور جاری امدادی و بحالی سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ این ڈی ایم اے شمالی علاقوں میں سیلابی صورتحال اور سندھ و بلوچستان میں جاری شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومتوں کو ہر ممکن معاونت اور وسائل فراہم کر رہی ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ آئندہ دو روز کے دوران آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور جنوبی سندھ میں مون سون بارشوں کا ایک شدید سلسلہ متوقع ہے، جبکہ ملک گیر بارشوں کا ایک اور بڑا اسپیل ستمبر کے دوسرے ہفتے میں آنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

شرکاء کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر قائم فلڈ کمیٹی صورتحال کی مسلسل نگرانی اور امدادی، ریلیف و بحالی اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کے لیے باقاعدگی سے اجلاس منعقد کر رہی ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ موجودہ مون سون اسپیل کے دوران اب تک 110 افراد جاں بحق، 360 زخمی، 796 مکانات متاثر ہوئے جبکہ 376 مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ایل نینو کے باعث شمالی علاقوں میں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے آئندہ ایک ماہ کے دوران گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ حساس علاقوں کی نشاندہی کر کے احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ وسطی پنجاب، خصوصاً لاہور میں شہری سیلاب پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ زیر آب آنے والی زرعی زمینوں سے پانی نکالنے کا عمل جاری ہے۔ ڈیرہ غازی خان اور ملحقہ علاقوں میں سیلابی صورتحال اس وقت قابو میں ہے۔

بریفنگ کے مطابق بروقت کارروائی کے نتیجے میں 106 مقامات پر سڑکیں بحال کر دی گئی ہیں۔

اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت قائم نیشنل ایمرجنسی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، جس کی بدولت ریسکیو 1122 کسی بھی موبائل فون سے موصول ہونے والی ہنگامی کال پر فوری کارروائی کر سکتا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ ملک بھر میں 700 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں مون سون کے دوران بارش کا پانی ذخیرہ کیا جائے گا تاکہ خشک موسم میں زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button