بسم اللہ الرحمن الرحیم

بین الاقوامی

مالدیپ کے صدر محمد معیزو کااپنے ملک سے 10 مئی تک بھارتی فوجی انخلا کا حکم

10 مئی کسی بھارتی فوجی کے مالدیپ میں رہنے کا آخری دن ہوگا صدر محمد معیزو

مالدیپ  کے صدر محمد معیزو نے اپنے ملک سے بھارتی فوجی انخلا کا حکم دے دیا ہے انہوں نے  بھارتی فوجیوں کو مالدیپ چھوڑنے کے لیے  10 مئی کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔

مالدیپ کے صدر محمد معزو  نے  پیر کے روز ایک رہائشی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج 10 مئی کے بعد مالدیپ میں کسی بھی لباس میں نہیں رہے گی، میں یہ بات اعتماد کے ساتھ بتا رہا ہوں اور جو لوگ غلط افواہیں پھیلاتے ہیں وہ حالات کو بگاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 10 مئی کسی بھارتی فوجی کے مالدیپ میں رہنے کا آخری دن ہوگا۔

مالدیپ کے صدر نے مزید کہا کہ بھارتی فوجی کو وردی میں یا سادہ لباس میں شہری حیثیت سے بھی مالدیپ میں رہنے نہیں دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس وقت مالدیپ کی 3 ایوی ایشن پلیٹ فارمز میں کئی برسوں سے دو ہیلی کاپٹروں اور ایک ڈورنیئر طیارے کے ذریعے طبی اور ہنگامی امداد کی خدمات فراہم کرنے کے نام پر 88 بھارتی فوجی اہلکار تعیبات ہیں۔

خیال رہے کہ مالدیپ کے صدر کا 10 مئی تک بھارتی فوج کے انخلا کا بیان چین کے ساتھ فوجی معاہدہ طے پا جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب ایک ہفتے قبل ہی بھارتی سویلین ٹیم مالدیپ کے ان 3 ایوی ایشن پلیٹ فارمز میں سے ایک کا چارج سنبھالنے کے لیے مالدیپ پہنچی تھی۔ تاہم ان ایوی ایشن میں بھارت سے سادہ لباس میں مبینہ طور پر بھارتی فوجیوں کی واپسی پر مالدیپ کے سیاست دانوں نے صدر معیزو پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی فوجی اپنے ملک واپس نہیں جا رہے ہیں بلکہ اب وہ سادہ لباس میں واپس مالدیپ آرہے ہیں۔ جس پر مالدیپ کے صدر محمد معیزو نے کہا کہ اپوزیشن کو ایسے بیانات نہیں دینے چاہییں جو لوگوں کے دلوں میں شکوک پیدا کریں اور جھوٹ پر مبنی ہوں۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ 10 مئی کے بعد ملک میں کوئی بھی بھارتی فوجی نہ یونی فارم میں اور نہ ہی سادہ لباس میں مالدیپ میں رہے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کے آغاز میں نئی دہلی میں ایک اعلی سطحی میٹنگ کے بعد مالدیپ کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ بھارت 10 مئی تک مالدیپ میں 3 ایوی ایشن پلیٹ فارمز پر کام کرنے والے اپنے فوجی اہلکاروں کو واپس بلا لے گا۔

دریں اثنا مقامی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ مالدیپ نے گزشتہ ہفتے ایمبولینس طیاروں کی پروازیں چلانے کے لیے سری لنکا کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مالدیپ ان ایوی ایشن پلیٹ فارمز میں بھارتی فوجیوں کو برداشت کرنے کو بالکل تیار نہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق معزو کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب اپوزیشن نے حکومت پر یہ کہہ کر تنقید شروع کر دی تھی کہ بھارتی فوجی ملک سے روانہ نہیں ہو رہے ہیں بلکہ وہ اپنی یونیفارم کو سویلین لباس میں تبدیل کرنے کے بعد واپس آرہے ہیں۔

اپوزیشن کی تنقید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، محمد معزو نے کہا کہ بھارتی فوجی اہلکاروں نے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد مالدیپ چھوڑنا شروع کر دیا ہے۔دونوں ممالک نے مالدیپ میں بھارتی فوجی کی موجودگی کو 10 مئی تک ہٹانے پر اتفاق کیا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ چین کے حامی محمد معزو نے گزشتہ سال کے صدارتی انتخابات میں بھارت مخالف بیانات پر ہی کامیابی حاصل کی تھی۔ یہاں تک کہ انھوں نے اس دوران ایک ‘انڈیا آٹ’ انتخابی مہم بھی چلائی جس میں انھوں نے اپنے ملک میں موجود بھارتی فوجی اہلکاروں واپس بلانے کا مطالبہ کیا۔ تاہم، معزو نے اپنی انتخابی مہم کے دوران دعوی کیا تھا کہ مالدیپ میں ایک ہزار سے زائد بھارتی فوجی تعینات ہیں اور وہ ملک کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہیں۔

گزشتہ سال نومبر میں اقتدار میں آنے کے بعد سے محمد معزو نے کئی ایسے اقدامات کیے ہیں جو بھارت مالدیپ تعلقات کے نقطہ نظر سے غیر روایتی تھے۔ مالدیپ سے بھارتی فوجیوں کو ہٹانا معزو کی پارٹی کی اہم انتخابی مہم تھی اور اس نے عہدہ سنبھالنے کے دوسرے ہی دن نئی دہلی سے اس حوالے سے باضابطہ درخواست کی تھی۔جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک اعلی سطحی گروپ کی دو میٹنگ بھی منعقد ہوئی، جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ تین پلیٹ فارمز پر تعینات ان فوجی اہلکاروں کی جگہ سویلین بھارتی اہلکار تعینات ہوں گے اور ان کی پہلی کھیپ 10 مارچ تک روانہ ہوگی جبکہ آخری کھیپ 10 مئی تک۔ اس کے بعد بھارتی شہریوں کی پہلی کھیپ فروری کے آخری ہفتے میں مالدیپ پہنچی تھی۔

Back to top button