بسم اللہ الرحمن الرحیم

بین الاقوامی

بھارت چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی مسابقت کے باعث بحریہ کا بجٹ بڑھا رہا ہے

دفاعی بجٹ  میں بحریہ کا حصہ 14فیصد سے بڑھ کر 19فیصد یعنی 72.6 بلین ڈالر ہو گیا

بھارت   چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی مسابقت کے باعث بحریہ کا بجٹ بڑھا رہا ہے  جبکہ بھارت، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان پر مشتمل اسٹریٹیجک اتحاد  کواڈ  کوجنوب بحیرہ چین میں چینی  فوجی طاقت میں اضافے پر متحرک کیا جارہا ہے ۔بھارت کے دفاعی بجٹ میں بحریہ کا حصہ 14فیصد سے بڑھ کر 19فیصد یعنی 72.6 بلین ڈالر ہو گیا  ہے۔

مغربی نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی مسابقت بحری شعبے میں وسعت دینے کے بھارتی عزائم کو متحرک کررہا ہے۔ یہ چیز بھارت کو مزید جدید بحری جہاز، آبدوزیں اور ہوائی جہاز حاصل کرنے نیز ٹیکنالوجی اور انفرااسٹرکچر میں مزید سرمایہ کاری کرنے کے لیے راغب کر رہا ہے۔بھارت کے دفاعی بجٹ میں بحریہ کا حصہ گزشتہ سال 14فیصد سے بڑھ کر 19فیصد یعنی 72.6 بلین ڈالر ہو گیا تھا۔بھارتی بحریہ کے منصوبہ سازوں کے لیے جنوب بحیرہ چین اب بھی تشویش کا سب سے اہم سبب ہے۔ بھارت کے کارگو کا تقریبا 60 فیصد اسی سے ہوکر گرزتا ہے، جب کہ چین اسے اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔

نشریاتی ادارے کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارت کی دفاعی پالیسی حریف پاکستان اور چین سے ملحق زمینی سرحدوں پر مرکوز تھی۔ لیکن اب اپنے بڑھتے ہوئے عالمی عزائم کے مدنظر اس نے بین الاقوامی سمندروں میں بھی اپنی بحری طاقت کو وسعت دینا شروع کردیا ہے۔ بھارت نے بحیرہ احمر میں جہازوں کو حملوں سے بچانے کے لیے وہاں سے قریب اپنے دستے تعینات کیے ہیں ان میں انسداد قزاقی دستے بھی شامل ہیں۔یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے بعد بھارت نے نومبر میں اپنے تین گائیڈیڈ میزائل ڈسٹرائر اور جاسوس طیارے وہاں بھیجے۔

مزید پڑھیے  چین نے پاکستان کے 2 ارب سے زائد قرض کی واپسی موخر کردی

بھارت کے جنوبی بحری کمان کے سربراہ کے طورپر سن 2021 میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے والے وائس ایڈمرل انل کمار چاولہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کی تعیناتی بین الاقوامی بحری استحکام میں کسی ملک کی “فعال شراکت داری” کو نمایاں کرتی ہے۔

تھنک ٹینک کارنیگی انڈونمنٹ فار انٹرنیشنل پیس میں فیلو درشنا ایم بروا کا کہنا  ہے  کہ”سمندری سلامتی بھارت کی خارجہ پالیسی کی سرگرمیوں کا اس طرح مضبوط ستون پہلے کبھی نہیں رہا ہے جیسا کہ ہم اب دیکھ رہے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ چین اس کا ایک اہم سبب ہے۔دونوں پڑوسی حریف بھارت اور چین متنازع سرحد پر پہلے سے ہی فوجی تعطل سے دوچار ہیں۔

چین نے گزشتہ برسوں کے دوران بحیرہ ہند میں اپنی زبردست موجودگی قائم کی ہے۔ جہازوں کی تعداد کے لحاظ سے اس کے پاس دنیا کی سب سے بڑی بحریہ ہے اور یہ بھارتی بحریہ کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ بڑی ہے۔ چین کے پاس بڑے ساحلی محافظوں کا ایک طاقت ور بیڑا بھی ہے، جسے اس کی میری ٹائم ملیشیا کہا جاتا ہے۔ یہ ماہی گیری جہازوں پر مشتمل ہے جو کوسٹ گارڈ کا تعاون کرتے ہیں۔ بیجنگ نے بھارت کے پڑوسیوں بشمول بنگلہ دیش، سری لنکا اور اب مالدیپ کے ساتھ مل کر بحیرہ ہند میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دی ہے۔

بھارتی فوج کے سابق افسر اور اسٹریٹیجک امور کے ماہر لفٹننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا کہتے ہیں،”چینی توسیع شدہ بحیرہ ہند میں زیادہ سے زیادہ بحری اڈے تلاش کررہے ہیں۔ اسے دیکھتے ہوئے بھارت کے پاس بھی اپنی تعمیرات جاری رکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔

مزید پڑھیے  ورلڈ کپ کرکٹ، بھارت نے آسڑیلیا کو 6 وکٹوں سے شکست دیدی
Back to top button