بسم اللہ الرحمن الرحیم

بین الاقوامی

امریکہ اور بھارت کے درمیان چار ارب ڈالر کے جدید ڈرون کا  سودا خطرے کا شکار

اس سلسلے میں معائدے کے لیے امریکی حکومت کوامریکی کانگریس کی منظوری درکار ہوگی

امریکہ اور بھارت کے درمیان چار ارب ڈالر کے جدید ڈرون کا معائدہ خطرات کا شکار ہے ۔ اگرچہ امریکی حکومت نے   بھارت کو چار ارب ڈالر کے جدید ڈرون فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے تاہم  اس سلسلے میں معائدے کے لیے  امریکی حکومت کوامریکی کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔

نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے ایک بیان میں امریکہ اور بھارت کے درمیان چار ارب ڈالر کے جدید ڈرون  کے بارے میں کہا ہے کہ امریکی کانگریس کے پاس مجوزہ فروخت کا جائزہ لینے کے لیے اب 30 دن ہیں۔ ان کے جائزے کے اختتام پر بھارت اور امریکہ پیشکش اور قبولیت کے مکتوب کے ساتھ سودا مکمل کر سکتے ہیں۔ یاد رہے امریکہ نے انتہائی جدید 31 پریڈیٹر ڈرون اور اس میں استعمال ہونے والے محضوص ساخت کے میزائل اور لیزر بم انڈیا کو فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

ای کیو 9 بی سکائی گارڈین ساخت کے 31 ڈرون اور میزائلوں اور دیگر متعلقہ ساز وسامان کی قیمت تقر یبا چار ارب ڈالر ہے۔ انڈیا امریکی کانگریس کی منظوری کے بعد آئندہ چند مہینوں میں میزائلوں سے لیس پرڈیٹر ڈرون حاصل کرنے والا پہلا غیر نیٹو ملک ہو گا۔

جمعرات کو پینٹاگان کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی ڈیفنس سکیورٹی کواپریشن ایجنسی نے مطلوبہ منظوری ملنے کے بعد کے بعد کانگریس کو اس ممکنہ فروخت کے بارے میں امریکی کانگریس کو مطلع کر دیا ہے۔انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے گذشتہ جون میں واشنگٹن کے اپنے دورے میں ان ڈرونز کی خریداری کے بارے میں بات چیت کی تھی۔ڈیفنس سکیورٹی کواپریشن ایجنسی کے مطابق 3 اعشاریہ 99 ارب ڈالر کے اس معاہدے کے تحت انڈیا نے 31 ایم کیو- 9 بی سکائی گارڈین ڈرون، 161 ایمبیڈیڈ گلوبل پوزیشننگ اور انرشیل نیوی گیشن سسٹم، 170 اے جی ایم -114 آر ہیل فائر مزائل، 16 ایر ٹریننگ مزائل 310 چھوٹی ساخت کے لیزر بم اور گرانڈ کنٹرول سٹیشن ، میزائل لانچر اور دیگر ساز و سامان خریدنے کی درخواست کی تھی۔

پینٹاگان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا انڈو پیسیفک اور جنوبی ایشیا میں سیاسی استحکام، امن اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک بڑی طاقت ہے۔ مجوزہ فروخت کے ذریعے امریکہ  انڈیا سٹریٹیجک تعلقات کی مضبوطی اور ایک اہم دفاعی پارٹنر کی سلامتی کو بہتر کرنے میں امریکہ کی خارجہ پالیسی اور اس کی قومی سلامتی کے مقاصد کے حصول میں مدد ملے گی۔اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈرون اور متعلقہ ہتھیاروں کی مجوزہ فروخت سے خطے کیبنیادی فوجی توازن میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ بی بی سی کے مطابق دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں اس ساخت کے مسلح ڈرون کسی ملک کے پاس نہیں ہیں۔ جدید ساخت کے سکائی گارڈین پریڈیٹر ڈرون امریکہ کی جنرل ایٹومکس ایروناٹیکل کمپنی بناتی ہے۔ اس کی ویب سائٹ کے مطابق ایم کیو  9 بی سکائی گارڈین ڈرون جدید ترین ڈرون طیارہ ہے۔ اس کے ذریعے پوری دنیا میں خفیہ معلومات، جاسوسی اور نگرانی کی جا سکتی ہے۔ یہ مصنوعی سیارے کے توسط سے فضا میں ہر طرح کے موسم اور دن اور رات میں 40 گھنٹے سیزیادہ دیر تک پرواز کر سکتا ہے۔ یہ زمین ، سمندر اور فضا میں اپنے ہدف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت کو مسلح ڈرون فروخت کرنے کی یہ منظوری ایک ایسے وقت آئی ہے، جب میڈیا میں اس طرح کی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ امریکہ نے اپنے شہری گروپتونت سنگھ پنون کو بھارتی ایجنسیوں کی جانب سے قتل کرنے کی مبینہ ناکام سازش کے بعد اس معاہدے کو روک دیا ہے۔

امریکہ کی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے اس حوالے سے کانگریس کو باضابطہ اطلاع فراہم کرنے کے ساتھ ہی اس سودے کی تصدیق کر دی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان انتہائی اعلی سطح کے دفاعی لین دین کو حتمی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم کا اشارہ ہے۔ امریکی کانگریس کو اس دفاعی سودے پر نظر ثانی کے لیے 30 دن کی مہلت ہے اور اس دوران اسے اس کو روکنے، اس میں رد و بدل کرنے یا پھر اس کی اجازت دینے کا اختیار ہے۔ یہ ایک ایسا طریقہ کار ہے جس کے تحت ایوان کو مجوزہ فروخت کی قانونی حیثیت کی جانچ پڑتال کا حق حاصل ہوتا ہے۔

Back to top button