
وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی فورم سے خطاب،مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پُرامن حل پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دنیا کو پُرامن مستقبل देने کے لیے ضروری ہے کہ تنازعات کو مکالمے، برداشت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے۔ وہ اشک آباد میں منعقدہ بین الاقوامی فورم سے خطاب کر رہے تھے جس میں "سالِ امن و اعتماد 2025”, "بین الاقوامی یومِ غیرجانبداری” اور ترکمانستان کی مستقل غیرجانبداری کے 30 سال* مکمل ہونے کا جشن منایا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پُرامن طریقے سے تنازعات کا حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے غزہ امن منصوبے اور اس کی سلامتی کونسل سے منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری سفارتی کوششیں ایک مستقل جنگ بندی، فلسطینی عوام کی جانوں کے تحفظ، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور غزہ کی تعمیرِ نو میں معاون ثابت ہوں گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینیوں کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت اور کشمیری عوام کی جدوجہد کی حمایت کرتا رہے گا۔
دہشت گردی کے خطرات پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان انتظامیہ کو اپنے بین الاقوامی وعدے پورے کرنے اور اپنی سرزمین سے دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی تلقین کرے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پائیدار امن کو پائیدار ترقی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ 2030 کا ایجنڈا ایک بہتر اور پُرامن دنیا کے لیے جامع لائحہ عمل فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی حکومت نے معاشی شمولیت، خواتین کو بااختیار بنانے اور محروم طبقات کو معاشی دھارے میں شامل کرنے کے لیے نمایاں اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان ماحولیاتی نظام کی بحالی میں دنیا کے لیے ایک مثال بن چکا ہے، تاہم دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان بھی موسمیاتی آفات اور غیر منصفانہ عالمی معاشی ڈھانچے سے متاثر ہو رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی، غربت اور عدم مساوات ایسے سرحد پار چیلنجز ہیں جن کا حل مشترکہ ذمہ داری اور عالمی یکجہتی کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی خصوصاً ڈیجیٹل سہولتوں تک مساوی رسائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ رابطہ منصوبوں میں سرمایہ کاری صرف سامان کی ترسیل کے لیے نہیں بلکہ اقوام، خیالات اور خوشحالی کو جوڑنے والے پل کی حیثیت سے ہونی چاہیے۔
فورم کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی مختلف عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی مگر خوشگوار ملاقاتیں بھی ہوئیں، جن میں روس کے صدر ولادی میر پیوٹن، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان اور کرغزستان کے صدر صدر جپاروف شامل تھے۔
تقریب کے دوران وزیراعظم عالمی قیادت کا مرکزِ توجہ بنے رہے۔















