بسم اللہ الرحمن الرحیم

تجارت

مرغی، چینی اور آٹے سمیت 18 اشیائے ضروریہ مہنگی

7 اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور 26 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام

رمضان المبارک میں تیسرے عشرے میں مہنگائی کی شرح میں0.50 فیصد اضافہ ہوگیا، جس کے باعث مہنگائی کی شرح17.05 فیصد ہوگئی، مرغی، چینی اور آٹے سمیت 18 اشیائے ضروریہ مہنگی، 7 اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور 26 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ تفصیلات کے مطابق ادارہ شماریات نے مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی ہے۔

جس کے تحت حالیہ ہفتے میں مہنگائی کی شرح میں 0.50 فیصد اضافہ ہوا۔ مہنگائی کی شرح 17.05 فیصد ہوگئی ہے۔ مرغی، چینی اور آٹے سمیت 18 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں۔ جس میں زندہ مرغی 27 روپے 11 پیسے فی کلو مہنگی، فی کلو زندہ مرغی 288 روپے 72 پیسے کی ہوگئی ہے۔ آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 31 روپے 27 پیسے مزید مہنگا ہونے بعد آٹے کے تھیلے کی اوسط قیمت ایک ہزار 112روپے 35 پیسے ہوگئی ہے۔

اسی طرح چینی 78 پیسے فی کلو مزید مہنگی ہوئی۔ چینی کی اوسط قیمت 96 روپے فی کلو ہوگئی ہے۔ مٹن 7 روپے 8 پیسے فی کلو مہنگا ہوا۔ بیف 5 روپے 79 پیسے فی کلو مہنگا ہوگیا ہے۔ دال مونگ، دال ماش، گھی اور دودھ بھی مہنگا ہوا۔ حالیہ ہفتے7 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔ جس میں انڈے اوسطاً 9 روپے 52 پیسے فی درجن سستے، پیاز ایک روپے 38 پیسے، آلو 62 پیسے فی کلو سستے ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 70 روپے 95 پیسے سستا ہوا۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے 26 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے رمضان بازاروں میں چینی کی فروحت روکنے کا حکم دیتے ہوئے اوپن مارکیٹ میں 85 روپے فی کلو چینی فروحت کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ۔لاہور ہائیکورٹ میں رمضان بازاروں میں چینی کے حصول کے قطاروں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے تعین کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

دوران سماعت لا ء آفیسر نے عدالت کو بتایا کہ رمضان بازار میں چینی بیچنے سے عام مارکیٹ میں قلت ہوئی۔ جس پر عدالت نے کہا کہ کس قانون کے تحت ساری چینی رمضان بازار میں بیچی گئی، عدالت کے احکامات پر جو چینی اٹھائی گئی اس کی آڈٹ رپورٹ پیش کی جائے۔لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کی حکم عدولی کی گئی ہے، آپ کو ضرورت سے زیادہ وقت دیا گیا، آپ قیمتوں کو کنٹرول اور چینی کی سپلائی کو یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں، عام مارکیٹ چینی 85 روپے فی کلو فروحت کی جائے گی، رمضان بازار اور جمعہ بازار لگا کر مذاق بنایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button