بسم اللہ الرحمن الرحیم

صحت

پاکستانی دوا ساز گیٹز فارما کے دوسرے پلانٹ استولا کو بھی عالمی ادارہ صحت کی پری کوالیفکیشن مل گئی

پاکستان کی سب سے بڑی دوا ساز کمپنی گیٹز فارما کے استولا مینوفیکچرنگ پلانٹ کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی پری کوالیفکیشن مل گئی ہے، جس کے بعد یہ کمپنی کا دوسرا پیداواری یونٹ بن گیا ہے جسے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بین الاقوامی معیار کی تصدیق حاصل ہوئی ہے۔ کمپنی کے ایگزیکٹو چیئرمین خالد محمود نے ہفتے کی شب کراچی میں سینکڑوں ڈاکٹروں، سرجنز اور طبی ماہرین کی موجودگی میں اس اہم کامیابی کا اعلان کیا۔

گیٹز فارما کے استولا پلانٹ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد محمود نے کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف گیٹز فارما بلکہ پاکستان کی پوری دوا ساز صنعت کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، جس سے پاکستانی ادویات کے معیار پر عالمی اعتماد میں اضافہ ہوگا اور ملک سے ادویات کی برآمدات کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل 2017 میں گیٹز فارما کے پہلے مینوفیکچرنگ پلانٹ کو عالمی ادارہ صحت کی پری کوالیفکیشن حاصل ہوئی تھی جبکہ اب 2 نومبر 2026 کو استولا پلانٹ نے بھی یہ اعزاز حاصل کرلیا ہے۔

خالد محمود کا کہنا تھا کہ پاکستانی دوا ساز صنعت میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ عالمی معیار کی محفوظ، مؤثر اور معیاری ادویات تیار کرکے دنیا کی بڑی دوا ساز کمپنیوں کا مقابلہ کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ گیٹز فارما نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان میں تیار ہونے والی ادویات بھی بین الاقوامی معیار اور سخت ریگولیٹری تقاضوں پر پوری اتر سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی صرف ایک کمپنی کی نہیں بلکہ پاکستان، اس کے طبی ماہرین اور ان لاکھوں مریضوں کی کامیابی ہے جو محفوظ، مؤثر اور مناسب قیمت پر دستیاب ادویات پر انحصار کرتے ہیں۔

خالد محمود نے بتایا کہ استولا پلانٹ کی منصوبہ بندی، ڈیزائننگ اور تعمیر مکمل ہونے میں 12 سال لگے اور یہ جدید ترین پیداواری مرکز 2022 میں فعال ہوا۔ اس پلانٹ میں مختلف امراض کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی تیاری کے لیے چھ الگ مینوفیکچرنگ سہولتیں قائم کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی پری کوالیفکیشن اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کے ذریعے ادویات کی تیاری کے طریقہ کار، گڈ مینوفیکچرنگ پریکٹسز (جی ایم پی)، کوالٹی کنٹرول، کوالٹی ایشورنس اور حفاظتی معیارات کی بین الاقوامی سطح پر جانچ اور تصدیق ہوتی ہے۔

خالد محمود کے مطابق گیٹز فارما اس وقت 45 سے زائد ممالک کو ادویات برآمد کررہی ہے اور دوسرے مینوفیکچرنگ پلانٹ کی پری کوالیفکیشن سے مزید بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی، خصوصاً ایسے ممالک میں جہاں ادویات کے معیار اور تیاری کے حوالے سے سخت ضوابط نافذ ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گیٹز فارما کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ذیشان احمد نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے دوسرے پیداواری یونٹ کی پری کوالیفکیشن پاکستان کی دوا ساز صنعت کے لیے ایک غیر معمولی کامیابی ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں پاکستانی ادویات کی قبولیت اور برآمدات میں اضافے کی راہ ہموار ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے ہونے والی ادویات کی مجموعی برآمدات میں گیٹز فارما کا حصہ تقریباً 50 فیصد ہے جبکہ کمپنی کی تیار کردہ ادویات 45 سے زائد ممالک میں فراہم کی جارہی ہیں۔

ذیشان احمد کا کہنا تھا کہ جدید مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی، معیار کی نگرانی کے مؤثر نظام اور تربیت یافتہ افرادی قوت میں مسلسل سرمایہ کاری کے بغیر عالمی دوا ساز صنعت میں مقابلہ کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی پاکستان سمیت دنیا بھر کے مریضوں کو یکساں معیار کی ادویات فراہم کرنے کے لیے اپنے پیداواری اور کوالٹی ایشورنس نظام کو مزید بہتر بناتی رہے گی۔

اس موقع پر معروف بیریاٹرک سرجن ڈاکٹر فہد مرزا اور پاکستان ایستھیٹک سرجری سوسائٹی کے اراکین نے گیٹز فارما کی قیادت کو عالمی ادارہ صحت کی پری کوالیفکیشن حاصل کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کامیابیوں سے پاکستان میں تیار ہونے والی ادویات پر ڈاکٹروں، مریضوں اور بین الاقوامی اداروں کا اعتماد بڑھے گا۔

کمپنی کے مطابق گیٹز فارما پاکستان کی واحد دوا ساز کمپنی ہے جسے عالمی ادارہ صحت کی پری کوالیفکیشن کے ساتھ فارماسیوٹیکل انسپیکشن کوآپریشن اسکیم (PIC/S) سے متعلق بین الاقوامی شناخت بھی حاصل ہے، جو ادویات کی تیاری اور معیار کے حوالے سے عالمی تقاضوں پر عمل درآمد کی عکاسی کرتی ہے۔

پاکستان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق 1995 میں قائم ہونے والی گیٹز فارما کے پاس 300 سے زائد ادویات اور مصنوعات ہیں جبکہ کمپنی کی کاروباری سرگرمیاں دنیا کے 45 سے زائد ممالک تک پھیلی ہوئی ہیں۔

خالد محمود نے کہا کہ گیٹز فارما مستقبل میں بھی جدید پیداواری ٹیکنالوجی، ادویات کے معیار کو یقینی بنانے والے نظام اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں سرمایہ کاری جاری رکھے گی تاکہ پاکستان میں تیار ہونے والی معیاری ادویات نہ صرف مقامی مریضوں بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کو دستیاب ہوسکیں۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button