
پاکستان تمام مذاہب کے زائرین کو مذہبی مقامات کے دوروں میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستان تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے زائرین کا خیرمقدم کرتا ہے اور انہیں اپنے مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے 2025 میں بھارتی مذہبی زائرین کو 9 ہزار سے زائد ویزے جاری کیے، جن میں سکھ اور ہندو زائرین بھی شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران سکھ زائرین کو مزید 4 ہزار سے زائد ویزے جاری کیے گئے۔
سجاد حیدر خان کے مطابق پاکستان رواں ماہ کے آخر میں بابا گورو نانک دیو جی کے 557ویں جنم دن کی تقریبات کے سلسلے میں ننکانہ صاحب آنے والے سکھ یاتریوں کی بڑی تعداد کا خیرمقدم کرنے کا منتظر ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1974 کا مذہبی مقامات کی زیارت سے متعلق پروٹوکول دونوں ممالک کے زائرین کے دوروں میں سہولت فراہم کرنے کا فریم ورک مہیا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سکھ یاتریوں کی سہولت کے لیے خصوصی اقدام کے طور پر کرتارپور راہداری قائم کی، جس کے ذریعے روزانہ 5 ہزار سے زائد یاتری مقدس مقام کی زیارت کرکے اسی روز واپس جا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے مئی 2025 سے اس راہداری کے ذریعے یاتریوں کی آمدورفت معطل کر رکھی ہے، تاہم پاکستان پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں زائرین کا استقبال کرنے اور انہیں سہولتیں فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کے ممکنہ دورہ پاکستان سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ اگر وہ پاکستان آنا چاہیں تو حکومت ان کے ویزے کی درخواست پر غور کرے گی، تاہم انہیں بھارت کی جانب سے سفر کی اجازت ملنا ایک الگ معاملہ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مذہبی آزادی کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک تمام مذاہب کے پیروکاروں کو ان کے مقدس مقامات کی زیارت میں سہولت فراہم کرنے پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان ٹیکسلا اور تخت بھائی سمیت بدھ مت کے تاریخی ورثے کے مقامات کے تحفظ اور حفاظت کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس بھی قائم کی گئی ہے۔















