بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

پائیداری کے عالمی رپورٹنگ معیارات میں ایشیا پیسیفک سرفہرست، عملدرآمد اور معاشی استحکام اہم چیلنج، اے سی سی اے کی تحقیق

ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے) کی نئی تحقیق کے مطابق ایشیا پیسیفک خطہ پائیداری سے متعلق عالمی رپورٹنگ معیارات اپنانے میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے، تاہم اصل چیلنج ان معیارات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرکے کاروباری اور معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

اے سی سی اے کی رپورٹ Asia Pacific builds a sustainable future کے مطابق آسیان کی 80 فیصد سے زائد معیشتیں، جی ڈی پی کے تناسب سے، انٹرنیشنل سسٹین ایبلٹی اسٹینڈرڈز بورڈ (ISSB) کے معیارات اپنا چکی ہیں یا انہیں اپنانے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔ جبکہ ایشیا پیسیفک کی وہ معیشتیں جنہوں نے یہ معیارات لازمی یا رضاکارانہ طور پر اپنا لیے ہیں، تقریباً 60 ٹریلین امریکی ڈالر کی جی ڈی پی کی نمائندگی کرتی ہیں، جو عالمی جی ڈی پی کا تقریباً 47 فیصد ہے۔

پاکستان کے تناظر میں یہ پیش رفت خاص اہمیت رکھتی ہے ۔ مالی سال 2025-26 کے لیے ملک کی معاشی شرح نمو کا تخمینہ 3.65 فیصد ہے، جبکہ بجلی پیدا کرنے کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 49,651 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جس میں نیٹ میٹرنگ کے ذریعے شمسی توانائی کی صلاحیت 7,319 میگاواٹ شامل ہے۔ تاہم قابل تجدید توانائی کی توسیع کے لیے سرمایہ کاری، گرڈ میں انضمام، توانائی ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور منصوبوں کی مالیاتی افادیت جیسے چیلنجز پر قابو پانا ضروری ہے۔

تحقیق کے مطابق پائیداری سے متعلق رپورٹنگ کو محض ضابطہ جاتی تقاضا سمجھنے کے بجائے کاروباری خطرات کی نشاندہی، بہتر فیصلہ سازی اور طویل مدتی معاشی فوائد کے حصول کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ کاربن اخراج میں کمی کے اقدامات نہ صرف ماحول کے تحفظ بلکہ کاروباری اداروں کو درآمدی ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بڑھتے اخراجات اور رسد میں تعطل سے محفوظ رکھنے میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔

اے سی سی اے ایشیا پیسیفک کے سینئر پالیسی کنسلٹنٹ شرتھ مارٹن نے کہا کہ پائیداری کا معاملہ محض معلومات کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ کاروباری اداروں کو زیادہ مستحکم اور خطرات سے نمٹنے کے قابل بنانے سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق کاربن اخراج میں کمی کے اقدامات توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور رسدی رکاوٹوں کے اثرات کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں بھی پائیداری سے متعلق رپورٹنگ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے IFRS Sustainability Disclosure Standards، کو مرحلہ وار اپنانے کا عمل شروع کیا ہے، جبکہ لسٹڈ کمپنیوں کے لیے ESG رپورٹنگ گائیڈ لائنز پر بھی نظرثانی کی گئی ہے۔

تحقیق میں پانی کی قلت، شدید گرمی اور سیلاب سمیت موسمیاتی خطرات کو خطے کی معاشی ترقی کے لیے اہم چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ گلوبل کمیشن آن دی اکنامکس آف واٹر کے مطابق ان مسائل پر قابو نہ پایا گیا تو 2050 تک کم آمدنی والے ممالک کی جی ڈی پی میں 10 سے 15 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ یہ علاقائی تخمینہ ہے، پاکستان کے لیے مخصوص پیش گوئی نہیں۔ پاکستان میں سیلاب، گرمی کی لہروں، پانی کی قلت اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے خطرات ان مسائل کی سنگینی کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔

اے سی سی اے کی چیف ایگزیکٹو ہیلن برانڈ او بی ای کے مطابق عالمی رپورٹنگ معیارات اپنانا اہم پیش رفت ہے، تاہم یہ بذات خود کاربن اخراج میں کمی یا دیگر پائیداری کے مسائل کے حل کی ضمانت نہیں۔ انہوں نے پائیدار اور مستحکم مستقبل کی تشکیل میں اکاؤنٹنسی کے شعبے کے کردار کو اہم قرار دیا۔

اے سی سی اے نے سفارش کی ہے کہ کاروباری ادارے کاربن اخراج میں کمی اور قدرتی وسائل سے متعلق خطرات کو اپنی سرمایہ کاری اور طویل مدتی منصوبہ بندی کا حصہ بنائیں، جبکہ پالیسی ساز پائیدار منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری اور مالی وسائل متحرک کریں۔

یہ تحقیق خطے کے 44 مالیاتی اور اکاؤنٹنسی کے ماہرین اور دیگر متعلقہ شعبوں کے ماہرین کے انٹرویوز اور مشاورتی نشستوں پر مبنی ہے۔ اے سی سی اے اپنے نئے تعلیمی پروگرام میں بھی 2027 سے پائیداری کے موضوعات کو شامل کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button