بسم اللہ الرحمن الرحیم

سائنس و ٹیکنالوجی

ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ماحولیاتی اثرات پر جنریشن زی کا اظہارِ تشویش: کیسپرسکی

الیکٹرانک فضلے کے عالمی دن (انٹرنیشنل ای ویسٹ ڈے) کے موقع پر سائبر سیکیورٹی کمپنی کیسپرسکی نے جنریشن زی (Gen Z) کے رویوں میں پائے جانے والے ایک دلچسپ تضاد کو اجاگر کیا ہے۔ اگرچہ جنریشن زی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا سب سے زیادہ استعمال کرنے والی نسل ہے، تاہم یہی نسل ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے سب سے زیادہ شعور بھی رکھتی ہے۔ کیسپرسکی کے انٹرنل مارکیٹ ریسرچ سینٹر کی نئی تحقیق کے مطابق جنریشن زی کے ہر پانچ میں سے ایک فرد نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک خطرہ قرار دیا ہے۔

جنریشن زی کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ تحقیق کے مطابق اس نسل کے تقریباً ہر دس میں سے چھ افراد (59 فیصد) ڈیجیٹل ماحول میں خود کو پُراعتماد محسوس کرتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ جنریشن زی اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ ہے کہ ڈیجیٹل طرزِ زندگی کی ایک ماحولیاتی قیمت بھی ہے۔ اس میں الیکٹرانک آلات کی تیاری اور تبدیلی کے لیے درکار وسائل سے لے کر ڈیٹا کی بڑھتی ہوئی مقدار کو محفوظ کرنے، پراسیس کرنے اور منتقل کرنے کے لیے ضروری انفراسٹرکچر تک مختلف عوامل شامل ہیں۔

کیسپرسکی کی تحقیق کے مطابق جنریشن زی کے 20 فیصد شرکا نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے باعث ماحول کو پہنچنے والے نقصان کو مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک خطرہ قرار دیا، جو عالمی سطح پر سروے میں شامل تمام نسلوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ اسی طرح جنریشن زیڈ کے 22 فیصد افراد نے ضرورت سے زیادہ کھپت اور فضلے کی بڑھتی ہوئی مقدار پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ عالمی سطح پر مجموعی طور پر یہ شرح 19 فیصد رہی۔ جنریشن زی کے بعض افراد ماحول دوست ڈیٹا سینٹرز (گرین ڈیٹا سینٹرز) کی اہمیت سے بھی آگاہ ہیں اور انہیں مستقبل کے لیے ایک امید افزا رجحان سمجھتے ہیں۔ تحقیق میں شامل 11 فیصد شرکا نے گرین ڈیٹا سینٹرز کو مستقبل کے اہم رجحانات میں سے ایک قرار دیا۔

ماحولیاتی پائیداری کے حوالے سے کیسپرسکی کی اپنی حکمتِ عملی بھی اس وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جس کے تحت ذمہ دارانہ ٹیکنالوجی کی ترقی میں ماحولیاتی اثرات کو اہمیت دی جارہی ہے۔اس کے ساتھ کیسپرسکی ماحولیاتی پائیداری میں سائبر سیکیورٹی کے کردار کو بھی تسلیم کرتی ہے۔ کرپٹو مائننگ میل ویئر جیسے سائبر خطرات سے آلات اور سسٹمز کو محفوظ بنا کر کمپنی کی ٹیکنالوجیز توانائی کے غیر ضروری استعمال اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کاربن کے اخراج کو روکنے میں بھی مدد فراہم کرسکتی ہیں۔

کیسپرسکی میں ای ایس جی اور سسٹین ایبلٹی کی سربراہ ماریا لوسیوکووا نے کہا کہ ‘یہ دیکھنا دلچسپ ہے کہ وہ نسل جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے درمیان پروان چڑھی ہے، ڈیجیٹل دنیا کے ماحولیاتی اثرات کو سمجھنے میں بھی سب سے آگے ہے۔ جنریشن زی کی توقعات کا لازمی طور پر یہ مطلب نہیں کہ وہ تنہا ٹیکنالوجی کو زیادہ ماحول دوست بنانے کی تبدیلی کی قیادت کرے گی، تاہم مستقبل میں اس نسل کی توقعات ایک اہم عنصر بن سکتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کی صنعت کے لیے یہ ایک یاد دہانی ہے کہ جدت کو صرف کارکردگی اور سیکیورٹی کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اس بات کو بھی اہمیت دینی چاہیے کہ ہم وسائل کو کتنی مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہیں اور اپنی تیار کردہ ٹیکنالوجیز کی پوری کارآمد زندگی، یعنی تیاری سے لے کر استعمال اور بالآخر تلف کرنے تک کے مراحل کا کس طرح انتظام کرتے ہیں۔”

یہ بھی پڑھیے

Back to top button