
وزیراعظم کا تنازعات کے پرامن حل کے عزم کا اعادہ
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے چارٹر کی رہنما اصولوں کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔
بشکیک، کرغزستان میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے رواں سال کے آغاز میں ایس سی او کے ایک رکن ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بڑے علاقائی بحران کے دوران امن کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس بحران کے باعث اہم توانائی سپلائی روٹس کی بندش سے عالمی معیشت متاثر ہوئی اور پاکستان سمیت عالمی برادری کو بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔ پاکستان نے مشکل حالات میں ایک مخلص اور دیانتدار ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں علاقائی کشیدگی میں کمی اور امن کی بحالی کے لیے تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) پر دستخط ہوئے۔ وزیراعظم کے مطابق یہ یادداشت خطے میں پائیدار امن کے لیے سب سے قابلِ عمل اور دیرپا راستہ فراہم کرتی ہے۔
مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، کسی ریاست کے خلاف نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد کسی قسم کی محاذ آرائی یا تقسیم پیدا کرنا ہے۔
وزیراعظم نے فلسطینی عوام کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو فلسطینی عوام سمیت تمام مظلوم اقوام کے حق خودارادیت کے حصول میں مدد کے اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا دیرپا امن کے بغیر اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کرسکتا۔ پانی کو کبھی ہتھیار یا دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور پانی کے معاہدوں کی مکمل پاسداری ہونی چاہیے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی دہائیوں کے دوران پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دیں جبکہ 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قربانیاں صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ خطے اور دنیا کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے دی گئیں۔
افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، تاہم جب تک دہشت گرد افغان سرزمین کو پاکستانی اور دیگر شہریوں کے خون بہانے کے لیے استعمال کرتے رہیں گے، دیرپا امن کا حصول مشکل رہے گا۔
شہباز شریف نے ایس سی او ممالک کے درمیان علاقائی رابطوں کو خوشحالی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک علاقائی معیشتوں کو بحیرہ عرب سے جوڑنے کے لیے گیٹ وے کا کردار ادا کررہا ہے۔ پاکستان بین العلاقائی ریلوے منصوبوں، سڑکوں کے رابطوں اور علاقائی توانائی منصوبوں کے فروغ کے لیے بھی پرعزم ہے۔
پاکستان کی جانب سے ایس سی او کی صدارت سنبھالنے کے حوالے سے وزیراعظم نے آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت، توانائی، ترقی و غربت میں کمی، قدرتی آفات سے نمٹنے، صحت، ثقافت اور کھیل سمیت اہم شعبوں کو ترجیح دینے کے لیے ایک ایکشن پلان پیش کیا۔
انہوں نے ایس سی او کی سطح پر خودمختار مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور گورننس فریم ورک کے قیام کی تجویز بھی دی تاکہ ذمہ دارانہ اور جامع انداز میں اے آئی کی ترقی کو فروغ دیا جاسکے اور کوئی رکن ملک پیچھے نہ رہ جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ کا موضوع "وژن کو عملی اقدام میں تبدیل کرنا، رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوشحالی” ہوگا۔
اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں نے ایس سی او اجلاس کے مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے۔















