
وزیراعظم شہباز شریف کی پاکستان ریلوے کو فریٹ سروسز اپ گریڈ کرنے کی ہدایت
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان ریلوے کو فریٹ سروسز اپ گریڈ کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔وہ آج اسلام آباد میں پاکستان ریلوے اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت کے لیے مال برداری کے لیے ریلوے کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔انہوں نے ملک بھر میں ریلوے انفراسٹرکچر کی پائیدار بنیادوں پر تعمیرِ نو کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ معاشی اور صنعتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ریلوے نظام ملکی معیشت اور مواصلاتی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تجارت اور روابط کے فروغ کے لیے ریلوے نظام کی جدید کاری قومی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔
اجلاس کو پاکستان ریلوے میں جاری اصلاحات پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ رواں سال فریٹ سروسز میں 21 فیصد اضافے کی توقع ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ مین لائن ون (ML-1) منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت کراچی-روہڑی سیکشن کی اپ گریڈیشن پر ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سے کام جاری ہے، جس میں انجینئرنگ ڈیزائن، ماحولیاتی سروے اور زمین کے حصول کا عمل شامل ہے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ تھر ریل کنیکٹیویٹی منصوبے پر 57 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ مین لائن-3 کے روہڑی-نوکنڈی سیکشن کی اپ گریڈیشن بلوچستان سے معدنیات کی ترسیل کے لیے اہم منصوبہ قرار دی گئی ہے، جس کے لیے ڈیزائن کنسلٹنٹ مقرر کیا جا چکا ہے اور پی سی-1 بھی تیار ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان ریلوے کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل جاری ہے، جس کے تحت رابطہ ایپ، کیش لیس ٹکٹنگ اور ریلوے اسٹیشنز پر مفت وائی فائی کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔مزید بتایا گیا کہ فریٹ مینجمنٹ سسٹم، ڈیجیٹل ویئنگ برجز اور رولنگ اسٹاک ٹریکنگ سسٹمز کے نفاذ سے فریٹ آپریشنز میں شفافیت اور کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔















