بسم اللہ الرحمن الرحیم

جموں و کشمیر

5 مئی 2025، شہید محمد اشرف صحرائی کا چوتھا یوم شہادت

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نِگہبانی
یا بندۂ صحرائی یا مردِ کُہستانی

"شہید محمد اشرف صحرائی”

کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ جناب پیر حضرت عبدالصمد انقلابی نے کہا ہے کہ آج 5 مئی 2025، شہید محمد اشرف صحرائی کا چوتھا یوم شہادت ہے انکی شہادت کے موقع پر شہید سید علی شاہ گیلانی ، شہید محمد مقبول بٹ ، شہید ملت میرواعظ مولوی محمد فاروق ، شہید عبدالغنی لون ، شہید محمد افضل گورو ، شہید اتحاد ملت برہان مظفر وانی ، شہید شمس الحق ، شہید اشفاق مجید وانی ، شہید ڈاکٹر منان ، شہید شیخ عبدالعزیز اور وہ ہزاروں عظیم المرتبت شہدائے جموں کشمیر یاد آرہے ہیں جنہوں نے ہندوستانی سامراج کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نظرانے پیش کیئے۔ ہم ان عظیم ہیروز کو آج خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا ہے کہ محمد اشرف صحرائی 23 مارچ 1944ء کو ٹکی پورہ لولاب کپواڑہ میں پیدا ہوئے، وہ ایک عظیم کشمیری مزاحمتی لیڈر ، مبلغ ، استاد اور سیاسی راہنما تھے، صحرائی شہید آزادی پسند جماعت تحریک حریت جموں کشمیر کے چیئرمین رہے، شہید محمد اشرف صحرائی کو باقاعدہ انتخابی عمل کے زریعے تنظیم کا چیئرمین منتخب کیا گیا تھا، جب شہید سید علی شاہ گیلانی نے اپنی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر تحریک حریت کے چیئرمین کہ عہدے سے استعفیٰ دیا تھا، محمد اشرف صحرائی شہید جماعت اسلامی جموں کشمیر کے جنرل سیکرٹری ، سیاسی شعبے کے سربراہ اور ریاست کے عوام کے ہر دلعزیز راہنما تھے۔

اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا ہے کہ محمد اشرف صحرائی شہید نے اپنی ابتدائی تعلیم 1959ء میں اپنے آبائی شہر کپواڑہ ٹکی پورہ میں اور ثانوی تعلیم سوگام لولاب ہائی سکول سے مکمل کی، ثانوی امتحان پاس کرنے کے بعد وہ اتر پردیش چلے گئے جہاں انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو میں بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔

اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا ہے کہ محمد اشرف صحرائی شہید کے دو بڑے بھائی تھے، ان میں سے ایک محمد یوسف خان تحریک اسلامی جموں کشمیر کے بانیوں میں شمار ہوتے تھے جن کا انتقال 2016ء میں ہوا دوسرے لولاب کے علاقے میں جماعت اسلامی کے معروف رکن قمر الدین خان تھے جو 2009ء میں وفات پا گئے تھے۔

اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا ہے کہ محمد اشرف صحرائی شہید ایک طالب علم کے طور پر دینی ، سیاسی اور سماجی سرگرمیوں اور مکالموں میں دلچسپی رکھتے تھے، وہ ایک بہترین شاعر اور قلمکار تھے انکا کلام جموں کشمیر کے مختلف جرائد اور رسائل میں شائع ہوتا رہا ہے، انھوں نے 1969ء میں سوپور سے رسالہ شائع کرنا شروع کیا، محمد اشرف صحرائی شہید نے پاکستان کے نام سے ایک کالم بھی لکھا جس میں پاکستان کے قیام ، حالات و واقعات کا عرق ریزی سے احاطہ کیا گیا۔

اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے امیر سربراہ عبدالصمد انقلابی نے کہا ہے کہ محمد اشرف صحرائی نے بابائے حریت شہید سید علی شاہ گیلانی کے ہمراہ اسلامی تحریک جموں کشمیر کو منظم کیا ، ہندوستان کے جابرانہ فوجی قبضے اور سازشوں سے قوم کو آگاہ کیا، وادی کشمیر اور صوبہ جموں کے دور دراز علاقوں میں پہنچ کر ایک ایک گاؤں میں حُریت کا درس دیا۔ ہمت و جرات کے پیکروں نے اپنی منظم ، متحرک اور انتھک جدوجہد سے بھارتی سرکار کے درو دیوار ہلا دیئے تھے۔

اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا ہے کہ محمد اشرف صحرائی شہید چھ بچوں کے باپ تھے جن میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں ، ان کے بیٹوں کے نام خالد اشرف خان ، راشد اشرف خان ، مجاہد اشرف خان اور سب سے چھوٹا بیٹا جنید اشرف خان تھا، صحرائی شہید کے سب سے چھوٹے بیٹے جنید احمد صحرائی نے مارچ 2018ء میں جموں کشمیر کی مزاحمتی تنظیم حزب المجاھدین میں باضابطہ شمولیت اختیار کر لی تھی۔

اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا ہے کہ شہید جنید صحرائی نے جب جموں کشمیر کی آزادی برائے اسلام کے لئے میدان جہاد میں قدم رکھا تو اس وقت کے "آئی جی پی” نے صحرائی شہید کو گھر واپس بلانے کی آفر دی تھی جس پر انہوں نے تاریخی الفاظ کہے تھے کے جموں کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے سارے بچے ہمارے ہیں اگر ہم نے انہیں واپس نہیں بلایا تو جنید کو کیونکر واپس بلائیں۔

اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا ہے کہ شہید جنید صحرائی حزب المجاہدین کے ڈویژنل کمانڈر کی حیثیت سے جموں کشمیر کے طول و عرض میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے رہے جدوجہد آزادی برائے اسلام کے دوران ہی 19 مئی 2020ء کو بھارتی قابضین کے خلاف معرکہ آرائی میں جنید صحرائی شہادت کے منصب پر فائز ہو گئے، محمد اشرف صحرائی شہید نے خود اپنے شہید بیٹے کا نماز جنازہ پڑھایا تھا، بھارتی قابض فوجیوں نے ،محمد اشرف صحرائی شہید کو جولائی 2020ء میں "پبلک سیفٹی ایکٹ” کے کالے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا اور انہیں اُدھم پور ڈسٹرکٹ جیل جموں میں قید کردیا گیا تھا، مسلسل گرفتاریوں ، اذیتوں اور مشکلات نے انہیں جسمانی طور پر کافی کمزور کردیا تھا، جیل میں ظلم وجبر اور استبداد بھارتی اہلکاروں اور انتظامیہ نے تعصب اور عداوت کی حد کرتے ہوئے انہیں بیماری کی حالت میں علاج معالجے کی سہولیات سے محروم رکھا ان کے اہلخانہ کئی کئی دنوں تک جیل کے چکر کاٹتے رہے انہیں ملاقات کا موقع نہیں دیا گیا، کمزور اور بیمار جسم کے ساتھ محمد اشرف صحرائی شہید نے بھارتی ظالموں کا بے جگری سے مقابلہ کیا، بھارتی ظلم وجبر اور استبداد محمد اشرف صحرائی شہید کے حوصلوں کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکے یوں ریاست جموں کشمیر کا ایک عظیم راہنما ، دعوت دین کا عظیم مبلغ ، حریت و آزادی برائے اسلام کا عظیم استاد 5 مئی 2021ء کو بھارتی جیل میں ہی شہادت کے منصب پر فائز ہوگئے۔

اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ، جموں کشمیر کے عوام اور صحرائی شہید کے اہل خانہ نے ان کی مظلومانہ شہادت کو حراستی "قتل” قرار دیا تھا، پوری ریاست میں لاکھوں عوام شدید صدمے سے دو چار ہوئے ، انکی مظلومانہ شہادت نے پوری جموں کشمیر کو غم والم میں ڈبو دیا۔

اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا ہے کہ بھارت کے دہشت گرد اور سفاک حکمرانوں نے صحرائی شہید کی لاش 5 مئی کی شام کو اہل خانہ کے سپرد کی جموں کشمیر کا ایک ایک شہری انکے جنازے میں شرکت اور انکی میت کو کندھا دینا اور دیدار کرنا چاہ رہا تھا لیکن بھارتی ظالم حکمرانوں نے اگلے دن ان کے جنازے میں صرف ان کے خاندان کے کچھ ہی افراد کو شرکت کی اجازت دی، صحرائی شہید کو ان کے آبائی گاؤں میں سپرد خاک کیا گیا، صحرائی شہید کے اہلخانہ انہیں سری نگر کے "شہداء کے قبرستان” میں دفنانا چاہتے تھے لیکن قابض انتظامیہ نے انھیں ٹکی پورہ لولاب میں ہی دفنانے پر مجبور کیا۔، محمد اشرف صحرائی شہید کے دو بیٹوں مجاہد خان صحرائی اور راشد خان صحرائی کو والد کی شہادت کے کچھ دن بعد ہی 16 مئی کو شہید والد کے جنازے میں اسلام اور آزادی کے حق اور بھارت مخالف نعرے لگانے پر گرفتار کیا گیا تھا، شہید محمد اشرف صحرائی کی مظلومانہ شہادت جو انہوں نے بھارتی زندان میں پیش کی ، انکے جواں سالہ بیٹے جنید صحرائی کی قومی آزادی کے لئے میدان عمل میں لڑتے ہوئے شہادت پانا اس بات کا اظہار ہے کہ جموں کشمیر کے عوام اپنے اسلامی تشخص ، قومی آزادی اور نسل نو کے محفوظ مستقبل کے لیے جدوجہد کو جاری وساری رکھیں گے، میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ مجھے اسلامی تحریک آزادی جموں کشمیر میں بابائے حریت سید علی شاہ گیلانی شہید اور محمد اشرف صحرائی شہید کی براہ راست راہنمائی حاصل رہی، اللہ تعالیٰ شہدائے اسلام و شہدائے جموں کشمیر سے راضی رہیں انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائیں۔ (آمین ثم آمین)

یہ بھی پڑھیے

Back to top button