بسم اللہ الرحمن الرحیم

صحت

مرگی کی ادویات کو ”زندگی بچانے والی ادویات” کے درجے میں شامل کیا جائے: ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

مہنگے میڈیکل ٹیسٹ اور ادویات کی وجہ سے لوگ علاج کرانے سے قاصر ہیں

ایپی لیپسی فائونڈیشن پاکستان کی صدر ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ مرگی کے مرض کی ادویات کو ”زندگی بچانے والی ادویات ”کے درجے میں شامل کیا جائے۔ وہ ملتان میں نیشنل میڈیکل کالج اور ہیلکس فارما کے زیراہتمام ”پاکستان میں مرض کی تشخیص کے مسائل اور نئے علاج کے آپشن” کے موضوع پرمنعقدہ سیمینارمیں شرکت کے بعد کراچی پہنچنے پر گفتگو کررہی تھیں۔نشتر میڈیکل کالج نیورولوجی سیکشن کے سربراہ ڈاکٹر شعیب کی صدارت میں منعقد ہونے والے سیمینار میں ملتان کے نامور ماہرنفسیات و نیورولوجسٹ (psychiatrist and neurologist) نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مرض کی صحیح تشخیص ایک بڑا مسئلہ ہے، صحیح تشخیص کے بعد ہی مرض کا صحیح علاج ممکن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرض کی تشخیص کے لیے میڈیکل ٹیسٹ اورادویات اتنی مہنگی ہو گئی ہیں کہ جس کی وجہ سے لوگ علاج کرانے سے قاصر ہیں۔

مرگی کے دوروں کے ساتھ مریض کا گھر سے باہر نکلنا اس کی زندگی کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ مرگی کے مریضوں کو اگر دورے پڑتے رہیں گے اور علاج نہیں ہوگا تو ایسے فرد کی زندگی ہی بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ مریض کا علاج کرانا ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ بھی معاشرے کا مفید فرد بن کر زندگی گزار سکے۔

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے صوبائی اور وفاقی وزارت صحت سے اپیل کی کہ مرگی کے مرض کی ادویات کو”زندگی بچانے والی ادویات  –  Life Saving Drugs ”کے درجے میں (category) شامل کیا جائے۔

مزید پڑھیے  خواتین میں چھاتی کے سرطان سے ہونے والی اموات کو کم کرنے کے لیے سرکاری اور نجی سطح پر بھرپور کوششیں کی جانی چاہئے، خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی
Back to top button