بسم اللہ الرحمن الرحیم

صحت

انجیر کھانے کے بے شمار فوائد

انجیر ایک ایسا پھل ہے جو پاکستان میں خشک شکل میں بہت زیادہ کھایا جاتا ہے۔ویسے خشک انجیر کھائی جائے یا اس کے تازہ پھل سے لطف اندوز ہوا جائے، دونوں سے صحت کو بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ماضی میں جب چینی کا استعمال عام نہیں ہوا تھا، انجیر کو ہی اکثر میٹھے پکوان بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ میٹھے کے شوقین افراد اس پھل کو کھا کر میٹھا کھانے کی خواہش پوری کر سکتے ہیں جبکہ صحت کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔اس کے چند فوائد درج ذیل ہیں۔

ہائی بلڈ پریشر میں کمی

ہائی بلڈ پریشر سے امراض قلب، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کی ایک بڑی وجہ جسم میں پوٹاشیم کا توازن بگڑنا ہوتا ہے۔

انجیر پوٹاشیم سے بھرپور پھل ہے جو جسم میں اس کا توازن درست رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

اسی طرح انجیر میں فائبر کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے جو جسم سے اضافی نمکیات کے اخراج میں مدد فراہم کرتی ہے اور بلڈ پریشر کی سطح مستحکم ہوتی ہے۔

قبض سمیت نظام ہاضمہ کے مختلف مسائل سے تحفظ

غذا میں فائبر کی کمی سے قبض کا خطرہ بڑھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انجیر کا استعمال اس عام مرض سے تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔

قبض سے نجات کے لیے متعدد افراد انجیر کا استعمال کرتے ہیں جبکہ اس سے معدے میں صحت کے لیے مفید بیکٹریا کی نشوونما بھی ہوتی ہے۔

یہ بیکٹریا نظام ہاضمہ کے مختلف امراض سے تحفظ فراہم ککرتے ہیں۔

مزید پڑھیے  دہی کھانے کا بہترین وقت کونسا ہے؟

ہڈیوں کو مضبوط بنائے

انجیر کیلشیئم اور پوٹاشیم کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے۔

یہ دونوں منرلز اکٹھے ملکر ہڈیوں کی کثافت بہتر کرتے ہیں جس سے ہڈیوں کی کمزوری یا دیگر امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق پوٹاشیم سے بھرپور غذاؤں کے استعمال سے ہڈیوں کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

اسی طرح کیلشیئم ہڈیوں کے لیے بہت اہم ہوتا ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ انہیں کمزور ہونے سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

دل کے لیے بھی مفید

انجیر کھانے کی عادت سے خون میں چکنائی کی سطح مستحکم ہوتی ہے اور امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ انجیر کھانے سے صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی آسکتی ہے۔

انجیر کی کتنی مقدار کھانی چاہیے؟

چونکہ اس پھل میں مٹھاس بہت زیادہ ہوتی ہے تو ایک یا 2 انجیروں کو کھانا ہی بہتر ہوتا ہے۔

Back to top button