بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

چیف جسٹس گلزار احمد حکومت سندھ کی کارکردگی پر برہم

شہر قائد میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ہوئی۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ جب محدود وسائل ہوتے ہیں تو مشکلات ہوتی ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کی ترجیحات کچھ اور ہیں، سپریم کورٹ کا کام معاونت کرنا نہیں، آپ نے زمین اونے پونے بیچ دی، لوگوں کی بحالی کے لیے آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل سلمان طالب الدین نے کہا کہ گجر نالہ متاثرین کے لیے 10 ارب روپے چاہئیں، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ سندھ حکومت کا بجٹ کتنا ہے؟ ایڈوکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ اس وقت میں نہیں بتا سکتا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سندھ حکومت کا کئی سو ارب کا بجٹ ہوتا ہے، متاثرین کی بحالی کے لیے 10 ارب روپے نہیں ہیں آپ کے پاس؟

چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے کہا کہ آپ لوگوں کی بحالی کا راستہ نکالیں، جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ نے ہمیں کہا کہ نالے صاف کروائیں ہم نے کروا دیے، اب آپ کہہ رہے ہیں کہ پیسے نہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ مسٹر ایڈووکیٹ جنرل سندھ جس طرح آپ بات کر رہے یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں متاثرین کو گھر دینے کا آرڈر کر دیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے متعلق ہم نے آرڈر کیا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ بورڈ آف ریوینیو کی جانب سے ایک رپورٹ پیش کی جا چکی ہے، 6 ہزار 5 ایکڑ زمین پر ترقیاتی کام ہوں گے، وفاقی حکومت نے پیسے نہیں دیے جس کی وجہ سے سندھ حکومت شدید مالی بحران کا شکارہے، وفاقی حکومت کے پاس 20 ارب روپے رہتے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت کو اربوں روپے ہر سال ملتے ہیں پھر بھی کہتے ہیں کہ پیسے نہیں ہیں، ایڈوکیٹ جنرل سندھ کا رویہ دیکھیں، انہیں شرم آنی چاہیے، سیاسی جھگڑے اپنی جگہ مگر لوگوں کو سروس دیں، اگر سروس نہیں دے سکتے تو جائیں کسی اور کو آنے دیں۔

اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ گجر نالہ متاثرین کی بحالی حکومت کی ذمہ داری ہے، زمین موجود ہے اس کی نیلامی ہو سکتی ہے اور بہت طریقے ہیں متاثرین کی بحالی کے، وفاقی اور صوبائی حکومت کو مل بیٹھ کر مسئلہ حل کرنا ہو گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سر سے پاؤں تک پورا کراچی گندا ہے، شہر میں غیر قانونی تجاوزات کی بھرمار ہے، ابھی تک کوئی ایسی صورت حال سامنے نہیں آئی کہ ایک انچ کا کام ہوا ہو، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، بجلی کے تار لٹک رہے، ذرا سی بارش ہو جائے پانی بھر جاتا ہے، بچے ڈوبتے ہیں ڈوبیں کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

عدالت نے کہا کہ ماضی میں سندھ حکومت کہتی رہی ہے کہ متاثرین کی بحالی کا کام کریں گے، اب کہتے ہیں کہ پاس پیسے نہیں ہیں، ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا عدالت کے سامنے بیان مناسب نہیں ہے، متاثرین کی بحالی سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے، سندھ حکومت اپنے وسائل سے متاثرین کی بحالی کرے۔

جسٹس گلزار احمد کا ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ لوگوں کو وزیراعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس میں بیٹھنے کی اجازت دے دیں، جس پر ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ آپ آرڈر کر دیں ہم وزیراعلیٰ ہاؤس میں بٹھا لیتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ کو نالوں سے متعلق ابتدائی رپورٹ دو ہفتوں میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایک سال میں نالہ متاثرین کی بحالی کے لیے فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے حکومت سندھ کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سر سے پاؤں تک پورا کراچی گندا ہے، سڑکیں ٹوٹی ہوئی اور بجلی کے تار لٹک رہے ہیں۔

شہر قائد میں تجاوزات کے خاتمے سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ہوئی۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ جب محدود وسائل ہوتے ہیں تو مشکلات ہوتی ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کی ترجیحات کچھ اور ہیں، سپریم کورٹ کا کام معاونت کرنا نہیں، آپ نے زمین اونے پونے بیچ دی، لوگوں کی بحالی کے لیے آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل سلمان طالب الدین نے کہا کہ گجر نالہ متاثرین کے لیے 10 ارب روپے چاہئیں، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ سندھ حکومت کا بجٹ کتنا ہے؟ ایڈوکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ اس وقت میں نہیں بتا سکتا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سندھ حکومت کا کئی سو ارب کا بجٹ ہوتا ہے، متاثرین کی بحالی کے لیے 10 ارب روپے نہیں ہیں آپ کے پاس؟

چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے کہا کہ آپ لوگوں کی بحالی کا راستہ نکالیں، جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ نے ہمیں کہا کہ نالے صاف کروائیں ہم نے کروا دیے، اب آپ کہہ رہے ہیں کہ پیسے نہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ مسٹر ایڈووکیٹ جنرل سندھ جس طرح آپ بات کر رہے یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں متاثرین کو گھر دینے کا آرڈر کر دیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے متعلق ہم نے آرڈر کیا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ بورڈ آف ریوینیو کی جانب سے ایک رپورٹ پیش کی جا چکی ہے، 6 ہزار 5 ایکڑ زمین پر ترقیاتی کام ہوں گے، وفاقی حکومت نے پیسے نہیں دیے جس کی وجہ سے سندھ حکومت شدید مالی بحران کا شکارہے، وفاقی حکومت کے پاس 20 ارب روپے رہتے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت کو اربوں روپے ہر سال ملتے ہیں پھر بھی کہتے ہیں کہ پیسے نہیں ہیں، ایڈوکیٹ جنرل سندھ کا رویہ دیکھیں، انہیں شرم آنی چاہیے، سیاسی جھگڑے اپنی جگہ مگر لوگوں کو سروس دیں، اگر سروس نہیں دے سکتے تو جائیں کسی اور کو آنے دیں۔

اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ گجر نالہ متاثرین کی بحالی حکومت کی ذمہ داری ہے، زمین موجود ہے اس کی نیلامی ہو سکتی ہے اور بہت طریقے ہیں متاثرین کی بحالی کے، وفاقی اور صوبائی حکومت کو مل بیٹھ کر مسئلہ حل کرنا ہو گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سر سے پاؤں تک پورا کراچی گندا ہے، شہر میں غیر قانونی تجاوزات کی بھرمار ہے، ابھی تک کوئی ایسی صورت حال سامنے نہیں آئی کہ ایک انچ کا کام ہوا ہو، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، بجلی کے تار لٹک رہے، ذرا سی بارش ہو جائے پانی بھر جاتا ہے، بچے ڈوبتے ہیں ڈوبیں کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

عدالت نے کہا کہ ماضی میں سندھ حکومت کہتی رہی ہے کہ متاثرین کی بحالی کا کام کریں گے، اب کہتے ہیں کہ پاس پیسے نہیں ہیں، ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا عدالت کے سامنے بیان مناسب نہیں ہے، متاثرین کی بحالی سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے، سندھ حکومت اپنے وسائل سے متاثرین کی بحالی کرے۔

جسٹس گلزار احمد کا ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ لوگوں کو وزیراعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس میں بیٹھنے کی اجازت دے دیں، جس پر ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ آپ آرڈر کر دیں ہم وزیراعلیٰ ہاؤس میں بٹھا لیتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ کو نالوں سے متعلق ابتدائی رپورٹ دو ہفتوں میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایک سال میں نالہ متاثرین کی بحالی کے لیے فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button