بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

پاکستان اور عمان کا دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ

پاکستان اور عمان نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور وسعت دینے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تیل و گیس، افرادی قوت، فنی تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

اس عزم کا اظہار اسلام آباد میں پاکستان اور عمان کے مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس کے اختتام پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی نے مشترکہ میڈیا گفتگو کے دوران کیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ اجلاس کا اہم نتیجہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے تجارت و سرمایہ کاری، زراعت، تیل و گیس، محنت اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس قائم اور فعال کیے جا رہے ہیں، جس سے باقاعدہ رابطوں اور مشترکہ وزارتی کمیشن کے فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور عمان نے دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے درمیان روابط اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پاکستان میں جلد ایک مشترکہ کاروباری فورم منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اسحاق ڈار نے عمان میں مقیم پاکستانی برادری کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی دونوں برادر ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔

نائب وزیراعظم کے مطابق دونوں ممالک نے افرادی قوت کی نقل و حرکت، فنی تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، تاکہ ہنرمند پاکستانی پیشہ ور افراد اور کارکنوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ اجلاس میں خلیج کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور کشیدگی میں کمی، تحمل، مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب سے بحری آمدورفت کی آزادی اور تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے، کیونکہ یہ گزرگاہیں علاقائی اور عالمی سطح پر خوراک اور توانائی کے تحفظ کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

نائب وزیراعظم نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ایسے حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا۔

فلسطین کے مسئلے پر اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور عمان نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں مسلسل توسیع اور القدس الشریف کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک نے غزہ کے عوام تک بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور پائیدار حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے عمانی وزیر خارجہ کے ساتھ مسئلہ جموں و کشمیر بھی اٹھایا، جو ایک دیرینہ اور حل طلب بین الاقوامی تنازع ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اس مسئلے کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کیا۔

عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی نے کہا کہ مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس میں دونوں ممالک کے تعلقات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے نئے امکانات تلاش کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے خطے میں مذاکرات کی سہولت کاری اور سفارتی کوششوں کی حمایت میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا، بالخصوص ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کی کوششوں کو اہم قرار دیا۔

عمانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایسی سفارتی کوششیں فریقین کے درمیان رابطوں کے مواقع پیدا کرنے، اعتماد سازی اور علاقائی مسائل کے پُرامن حل کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور عمان کے دیرینہ تعلقات مشترکہ تاریخ، جغرافیائی قربت، باہمی احترام اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مضبوط روابط پر قائم ہیں۔ دونوں ممالک ان تعلقات کو مستحکم بنیادوں پر آگے بڑھانے اور ایسی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہیں جو دونوں اقوام کی ضروریات اور ترجیحات سے ہم آہنگ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں اقتصادی اور تجارتی تعاون کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، رابطہ کاری، لاجسٹکس، خوراک کا تحفظ، ٹیکنالوجی اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبے شامل ہیں۔

صحافیوں کے سوالات کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ آبنائے ہرمز، باب المندب اور دیگر علاقائی معاملات پر پاکستان اور عمان کے مؤقف میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں، کیونکہ تنازعات کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتے۔

پاکستان اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے سے متعلق سوال پر نائب وزیراعظم نے کہا کہ اس معاہدے سے پاکستان اور جی سی سی کے رکن ممالک کے درمیان تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے میں یقیناً مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button