بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

وزیراعظم کاانتخاب،شہباز شریف اور عمر ایوب کے کاغذات نامزدگی درست قرار

وزارت عظمی کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کا عمل مکمل ہو گیا، اتحادی جماعتوں کے امیدوار شہباز شریف اور عمر ایوب خان کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں۔عمر ایوب نے اعتراض عائد کیا کہ شہباز شریف اس ایوان کے رکن نہیں، الیکشن ہارے ہیں، مزید کہا کہ نامکمل ایوان میں وزیراعظم کا انتخاب نہیں ہو سکتا۔اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے سنی اتحاد کونسل کے اعتراضات کو مسترد کر دیا اور دونوں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے۔

قبل ازیں، وزارت عظمی کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے لیے اتحادی جماعتوں کی جانب سے شہباز شریف اور سنی اتحاد کونسل کے امیدوار عمر ایوب کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ اسکروٹنی کے عمل کے لیے اسپیکر آفس پہنچے تھے۔سنی اتحاد کونسل نے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے لیے عمر ایوب کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔اتحادی جماعتوں نے وزارت عظمیٰ کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے۔

شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحٰق ڈار، پاکستان پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ، مسلم لیگ (ق) کے طارق بشیر چیمہ، استحکام پاکستان پارٹی کے عون چوہدری اور رہنما (ن) لیگ خواجہ آصف نے جمع کروائے۔

کاغذات سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر حسین کے پاس جمع کروائے گئے۔واضح رہے کہ جاری انتخابی شیڈول کے مطابق وزیر اعظم کا انتخاب 3 مارچ بروز اتوار کو ہوگا۔حالیہ عام انتخابات میں عمر ایوب خان قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 18ہری پور سے آزاد امیدوار کامیاب ہوئے تھے، انہوں نے ایک لاکھ 92 ہزار 948 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بابر نواز ایک لاکھ 12 ہزار 389 ووٹ لے سکے تھے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف لاہور کے حلقے 123 سے 63 ہزار 953 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے، جبکہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوار افضال عظیم پاہٹ 48 ہزار 486 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔21 فروری کو مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاق میں مل کر حکومت سازی کا اعلان کرتے ہوئے شہباز شریف کو وزیر اعظم اور آصف علی زرداری کو صدر مملکت کے عہدے کے لیے نامزد کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اب آپ کو بتا سکتا ہوں کہ اب پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے نمبرز پورے ہو چکے ہیں اور ہم حکومت سازی پر عملدرآمد کریں گے، ہم حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔بلاول نے مزید کہا تھا کہ جو جماعت سنی اتحاد کونسل کے نام سے قومی اسمبلی میں موجود ہے، ان کے پاس حکومت بنانے کے نمبرز موجود نہیں تھے اور اب پاکستان کو اس بحران سے نکالنے اور ہمارے معاشرے میں پھیلی تقسیم کو ختم کرنے کے لیے پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی مل کر حکومت بنانے جا رہے ہیں۔

Back to top button