بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

190 ملین پائونڈ کیس، بانی پی ٹی آئی، بشری بی بی پر فرد جرم عائد، دونوں ملزمان کا صحت جرم سے انکار

 احتساب عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے 5گواہان کو طلبی کے نوٹسز جاری کر دیئے، سماعت 6 مارچ تک ملتوی

احتساب عدالت نے 190ملین پائونڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشری بی بی پر فرد جرم عائد کر دی،دونوں ملزمان بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی نے صحت جرم سے انکار کیا۔راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی، بشریٰ بی بی کو بنی گالا سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔بانی پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر، عمیر نیازی اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی اپنی ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت پراسیکیوٹر کی جانب سے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کی گئی جبکہ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے فرد جرم عائد کرنے کی مخالفت کی۔

جج نے بانی پی ٹی آئی سے سوال کیا کہ آپ پر فریم چارج کیا جارہا ہے، آپ بتائیں قصوروار ہیں کہ نہیں، بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں نے چارج شیٹ پڑھ کر کیا کرنا ہے مجھے معلوم ہے اس میں کیا لکھا ہے۔

وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ چالان کی جو کاپیاں فراہم کی گئیں وہ پڑھنے کے قابل نہیں ۔بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے چالان کی کاپیاں دوبارہ فراہم کرنے کی استدعا کی۔ ملزمان کے وکلا سلمان صفدر، ظہیر عباس چوہدری اور عثمان گل نے عدالت سے 7 دن کا وقت مانگا۔عدالت نے کہا کہ آپ کو پہلے ہی کافی وقت دے چکے ہیں، مزید وقت نہیں دے سکتے، دوران سماعت بانی پی ٹی آئی روسٹم پر آئے، بانی پی ٹی آئی نے جج سے مکالمہ کیا کہ ہم اس کیس میں تاخیر نہیں چاہتے، 8 فروری سے پہلے نیب کو جلدی تھی اب ہم چاہتے ہیں ریفرنس کی سماعت جلد مکمل ہو۔

مزید پڑھیے  پر تشدد مظاہروں اور شارٹ کٹ مارچ کے دوبارہ آغاز کے پیچھے مذموم مقاصد ہیں، شیری رحمان

جج نے کہا کہ خان صاحب آپ پہلے بتائیں آپ کے دانتوں کا چیک اپ ہوا کہ نہیں، بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ابھی تک دانتوں کا چیک اپ نہیں ہوا، جیل انتظامیہ نے کہا تھا اتوار کو ڈاکٹر آئے گا، اب جیل انتظامیہ کہہ رہی ہے کہ اگلے اتوار کو ڈاکٹر آئے گا۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے اور دانتوں کے چیک اپ کے لیے جنرل فزیشن اور ڈینٹسٹ کی فراہمی کی درخواست منظور کرلی۔

وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ فرد جرم عائد کرنے سے سات دن قبل ریفرنس کی کاپیاں فراہم کرنا ہوتی ہیں، 50 کے قریب دستاویزات ایسی ہیں جو پڑھے جانے کے قابل ہی نہیں، یہ دستاویزات اس ریفرنس کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہیں، ہم فرد جرم عائد کرنے میں کوئی رکاوٹیں کھڑی کرنا نہیں چاہتے، عدالتی وقت میں یہ دستاویزات فراہم کر دی جائیں، ہم سات دن بعد دوبارہ آ جائیں گے۔

وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ تیزی سے کیس کو چلانا چاہتے ہیں، ہم نے دستاویزات کی دوبارہ فراہمی کی درخواست بھی دی ہے، عدالت اگر فرد جرم عائد کرنا چاہتی ہے تو اس چیز کو بھی ریکارڈ پر لایا جائے،وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ 50 کے قریب دستاویزات پڑھے جانے کے قابل نہیں، لیکن پھر بھی فرد جرم عائد کی جا رہی ہے۔

دوران سماعت ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت سے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی پر 190 ملین پانڈ ریفرنس میں فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کی، انہوں نے کہا کہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کراتے وقت تمام ریکارڈ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے وکلا کو فراہم کر دیا جائے گا۔جج ناصر جاوید رانا نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشری بی بی پر فردِ جرم عائد کی ، احتساب عدالت کے جج نے کمرہ عدالت میں ملزمان کی موجودگی میں فردِ جرم پڑھ کر سنائی،دونوں ملزمان بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی نے صحت جرم سے انکار کیا۔عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے 5 گواہان کو طلبی کے نوٹسز جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 6 مارچ تک ملتوی کر دی۔

مزید پڑھیے  دعا زہرہ کیس، آئی جی سندھ سے چارج واپس لینے کا حکم
Back to top button