بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

پنجاب اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے بطور قانون ساز حلف اٹھالیا

عام انتخابات 2024 کے نتیجے میں بننے والی پنجاب اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے بطور قانون ساز حلف اٹھالیا، اسپیکر سبطین خان نے ارکان اسمبلی سے حلف لیا۔پنجاب اسمبلی کے نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کل (ہفتےکو) کیا جائے گا، ایوان میں اکثریت رکھنے والی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کی جانب سے ملک احمد خان کو اسپیکر پنجاب اسمبلی بنائے جانے کا امکان ہے جب کہ وزیراعلیٰ کا انتخاب اگلہ مرحلہ ہوگا۔

پہلی بار رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہونے والی مریم نواز مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کی وزارت اعلیٰ کے لیے مضبوط امیدوار ہیں۔آج صبح 10 بجے طلب کیے گئے اجلاس کی کارروائی کا آغاز 2 گھنٹے سے زائد تاخیر کے بعد ہوا جس کے دوران مسلم لیگ (ن) اور آزاد اراکین نے ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔اس دوران اسپیکر سبطین خان نے نماز جمعہ کے لیے اجلاس 45 منٹ کے لیے ملتوی کر دیا، مسلم لیگ (ن) ارکان نے اسپیکر سے حلف لینے کی استدعا کی جسے انہوں نے منظور نہ کیا۔

وقفے کے دوران مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمی بخاری نے کہا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی سہمے ہوئے ہیں، انہیں طاقت دینے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کو اسمبلی میں مطلوبہ سہولت میسر نہیں، اسپیکر غلط طریقے سے آئے، لیکن جائیں عزت کےساتھ۔انہوں نے کہا کہ صحیح انٹراپارٹی الیکشن نہیں کراسکے تو یہ (ن) لیگ کا قصور نہیں۔

نماز جمعہ کے بعد ایوان کی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے نو منتخب اراکین نے بطور قانون ساز عہدے کا حلف اٹھایا، مسلم لیگ (ن) کے 201 اراکین سمیت پنجاب اسمبلی کے 313 ممبران نے حلف اٹھایا۔حلف لینے کے بعد اسپیکر نے تمام ارکان کو منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری اسمبلی پینل آف چیئرمین کا انتخاب کریں۔اس کے بعد سیکریٹری اسمبلی نے4 ارکان پر مشتمل پینل آف چیئرمین کا اعلان کیا۔

Back to top button