بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ کے 6 فروری کے ایک فیصلے پر منفی پروپیگنڈا

سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ کے 6 فروری کے اس فیصلے پر جھوٹا اور منفی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے جس میں عدالت نے محض 2019 کے ایک مقدمے میں 2021 کے قانون کی دفعات لگانے کو غلط قرار دیا۔

سپریم کورٹ کے 6 فروری کے فیصلے پر جھوٹا اور منفی پروپیگنڈا کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زیر سماعت معاملے میں 2021 کا قانون ایک ایسی کتاب پر لاگو کیا جا رہا تھا جو 2019 میں شائع ہوئی تھی۔

قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی شخص کو کسی ایسے جرم پر سزا دے جس کا جب ارتکاب کیا گیا تب وہ جرم نہیں تھا۔ اگر پابندی کی شکار کتاب کی اشاعت اور تقسیم پر یہ قانون لگایا بھی جائے تو اس جرم کی سزا 6 ماہ تھی جبکہ جس شخص پر یہ قانون لگایا جا رہا تھا وہ پہلے ہی 13 ماہ سے جیل میں ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اس معاملے میں سیکشن 298 سی اور 295 بی لاگو نہیں کی جا سکتیں کیونکہ ابتدائی چالان میں ان شقوں کا ذکر بھی نہیں تھا اور نہ ہی اس میں ایسی تفصیلات پیش کی گئی تھیں جو ان قوانین کو لاگو کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف منفی اور ہیجان انگیز خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے پابندی کی شکار کسی کتاب کی اشاعت اور تقسیم کی اجازت نہیں دی،  سپریم کورٹ نے یہ ہدایت اور تجویز بھی دی تھی کہ ایسے حساس معاملات پر بہت احتیاط کے ساتھ، قانون اور اسلام کی روح کے مطابق عمل درآمد کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیے  آصف درانی وزیراعظم کے نمائدہ خصوصی برائے افغانستان تعینات

ایک گروہ سوشل میڈیا پر اس معاملے کو غلط رنگ دے رہا ہے اور مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ 6 فروری کو ایسا کوئی فیصلہ نہیں دیا گیا جو آئین پاکستان اور اسلامی شریعت کے خلاف ہو۔

Back to top button