بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

اسلام آباد کے تینوں حلقوں کے حوالے کے کامیابی کے نوٹیفکیشنز الیکشن کمیشن کے فیصلے سے مشروط

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد کے تینوں حلقوں این اے 46، 47، 48 کے حوالے سے کامیابی کے نوٹیفکیشنز الیکشن کمیشن کے فیصلے سے مشروط کرتے ہوئےنوٹیفکیشن کی معطلی برقرار رکھی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اسلام آباد کے تینوں حلقوں سے کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن کے خلاف کیس کی سماعت کی، پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں علی بخاری، شعیب شاہین اور عامر مغل نے نوٹیفکیشنز چیلنج کر رکھے ہیں۔

دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ سماعت کے دوران درخواست گزار نے بتایا کہ ٹربیونل کے لیے نامزدگی دی گئی ہے، شعیب شاہین نے عدالت کو بتایا تھا کہ تاحال الیکشن ٹربیونل قائم نہیں کیا گیا، الیکشن کمیشن کے وکیل سے ٹربیونل کا نوٹیفکیشن طلب کیا تھا، کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد ٹربیونل کے قیام کا نوٹیفکیشن پیش کیا گیا، بادی النظر میں ٹربیونل کے قیام کا 17 فروری کا نوٹیفکیشن عدالت سے چھپایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے جاننا چاہیں گے کہ کامیاب امیدوار کے نوٹیفکیشن میں اتنی جلد بازی کیوں کی گئی؟عدالت نے ریمارکس دیے کہ فارم 47 کے بعد بھی نوٹیفکیشن کے اجرا سے پہلے ایک مکمل عمل ہوتا ہے، کمیشن اگر کل شکایات درست قرار دے دیتا ہے تو نوٹیفکیشن کا کیا ہو گا؟ کیا عدالت نوٹیفکیشن معطل رکھ کر درخواستیں نمٹا دے؟ نوٹیفکیشن کو الیکشن کمیشن کے درخواستوں پر فیصلے سے مشروط کر دیتے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے اسلام آباد کے تینوں حلقوں کے حوالے کے کامیابی کے نوٹیفکیشنز الیکشن کمیشن کے فیصلے سے مشروط کر دیے، الیکشن کمیشن میں زیر التوا درخواستوں کے فیصلے تک نوٹیفکیشنز معطل رہیں گے۔عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کی یقین دہانی کے بعد درخواستیں نمٹا دیں اور قرار دیا کہ ٹربیونل کی تشکیل کے باعث مزید اس معاملے پر سماعت نہیں کرسکتے۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ الیکشن کمیشن میں زیر التوا درخواستوں کے فیصلے تک نوٹیفکیشنز معطل رہیں گے۔

Back to top button