
سائبر حملوں نے دنیا بھر کے 86 فیصد چھوٹے و درمیانے کاروباری اداروں کو متاثر کیا: کیسپرسکی
کیسپرسکی کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم بیز) کے حوالے سے کیے گئے ایک نئے عالمی سروے کے نتائج کے مطابق دنیا بھر میں 86 فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ انہیں گزشتہ ایک سال کے دوران کم از کم ایک سائبر حملے یا سائبر سیکیورٹی واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔ سروے کے مطابق سب سے زیادہ نقصان دہ خطرات میں فشنگ حملے، سافٹ ویئر اور ویب ایپلی کیشنز میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھانے والے حملے، بڑے پیمانے پر پھیلنے والا مالویئر، رینسم ویئر، بیرونی ریموٹ ایکسس اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی کمزوریوں کو نشانہ بنانے والے حملے شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سنگین ترین سائبر واقعے کے نتیجے میں مالی نقصان نمایاں اثرات میں شامل رہا، جس کا ذکر 22 فیصد جواب دہندگان نے کیا۔ کمپنیوں کو درپیش دیگر بڑے نقصانات میں صارفین کے ڈیٹا کی چوری، ویب سائٹس اور آن لائن اسٹورز جیسی صارفین سے براہِ راست متعلقہ سروسز میں عارضی تعطل، آئی ٹی انفراسٹرکچر پر کنٹرول کا خاتمہ اور کاروباری امور میں مجموعی خلل شامل ہیں۔ سب سے زیادہ نشانہ بننے والی معلومات میں صارفین کا ڈیٹا 32 فیصد، حساس اندرونی معلومات مثلاً مالی اسناد اور قانونی دستاویزات 28 فیصد، ملازمین کی اسناد 25 فیصد جبکہ ادارے کی کاروباری حکمت عملی 23 فیصد شامل رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق سائبر جرائم پیشہ عناصر کی توجہ آئی ٹی اور آئی ٹی سیکیورٹی ٹیموں پر بھی مرکوز رہی۔ سب سے زیادہ نقصان دہ حملوں میں سے 50 فیصد آئی ٹی شعبوں جبکہ 46 فیصد آئی ٹی سیکیورٹی شعبوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اکاؤنٹنگ اور فنانس کے شعبے 24 فیصد حملوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں میں کسٹمر سروس چینلز کے ذریعے حملوں کی شرح 21 فیصد رہی، جو مڈ مارکیٹ کمپنیوں میں 15 فیصد اور بڑے اداروں میں 17 فیصد تھی۔
اس کے بعد تھرڈ پارٹی کمپلائنس کے تقاضوں کو مزید مضبوط بنانا اور اسناد کے انتظام کے طریقہ کار کو اپ گریڈ کرنا، دونوں 23، 23 فیصد کے ساتھ نمایاں ترجیحات رہیں۔ تقریباً اتنے ہی اداروں، یعنی 22 فیصد، نے تمام ملازمین کے آلات پر سیکیورٹی سافٹ ویئر کی تنصیب اور آئی ٹی عملے کی مہارت میں اضافے کے لیے خصوصی تربیت پر سرمایہ کاری کی۔
سائبر گورننس کے ماہر اسد الرحمٰن کے مطابق، سائبر سیکیورٹی اب صرف بڑے کاروباری اداروں تک محدود مسئلہ نہیں رہی۔ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے بھی تیزی سے سائبر خطرات کی زد میں آ رہے ہیں، کیونکہ یہ ادارے اکثر صارفین اور مالی معاملات سے متعلق قیمتی معلومات سنبھالتے ہیں، جبکہ ان کے پاس سیکیورٹی کے لیے محدود وسائل دستیاب ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی ایس ایم بیز کے لیے سائبر سیکیورٹی میں سرمایہ کاری کو محض آئی ٹی اخراجات کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اسے کاروباری تسلسل اور مضبوطی کے لیے ایک اہم اقدام سمجھنا چاہیے، جو صارفین کے اعتماد، کاروباری سرگرمیوں کے تسلسل اور طویل مدتی ترقی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
کیسپرسکی کے یونیفائیڈ پلیٹ فارم پروڈکٹ لائن کے سربراہ ایلیا مارکلوف نے کہا کہ سائبر واقعات اکثر چھوٹے اور درمیانے درجے کی کمپنیوں پر بڑے کارپوریٹ اداروں پر ہونے والے ہائی پروفائل حملوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تباہ کن اثرات مرتب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ایسے حملے محدود وسائل رکھنے والے کاروباری اداروں کی بقا کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف نوعیت کے شدید خطرات، آپریشنل پابندیوں اور کاروباری ترقی کے مخصوص اہداف کے پیش نظر ایس ایم بیز کو فوری طور پر قابل توسیع اور ان کی ضروریات کے مطابق تیار کردہ سیکیورٹی کی ضرورت ہے۔ ایلیا مارکلوف نے بتایا کہ کیسپرسکی نیکسٹ آپٹیمم اس شعبے کے لیے کمپنی کی مرکزی پیشکش ہے
کیسپرسکی نے سائبر واقعات سے ہونے والے نقصانات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے بجٹ، کاروبار کے حجم اور صنعت کی ضروریات کے مطابق خصوصی سیکیورٹی سلوشنز اختیار کریں تاکہ جدید اور پیچیدہ سائبر حملوں سے تحفظ حاصل کیا جا سکے۔ کیسپرسکی کے مطابق سمال آفس سیکیورٹی پریمیم ایک آسان استعمال سیکیورٹی حل ہے ج۔ وہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے جنہیں مختلف نوعیت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ جدید سیکیورٹی صلاحیتوں کی ضرورت ہے، ان کے لیے کاسپرسکی نیکسٹ آپٹیمم تجویز کیا گیا ہے۔
کیسپرسکی نے ملازمین میں دیرپا سائبر سیکیورٹی عادات پیدا کرنے کے لیے کیسپرسکی آٹومیٹڈ سیکیورٹی آگاہی پلیٹ فارم استعمال کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔















