بسم اللہ الرحمن الرحیم

سائنس و ٹیکنالوجی

گوگل کے مقبول ترین سرچ انجن میں برسوں بعد بڑی تبدیلی

گوگل سرچ کا ہوم پیج وہ مقام ہے جہاں انٹرنیٹ استعمال کرنے والا ہر فرد دن میں کم از کم ایک بار تو ضرور وزٹ کرتا ہے۔

گوگل سرچ ہوم پیج میں گزرے برسوں کے دوران چند اپ ڈیٹس ہوئی ہیں مگر اس کا مجموعی ڈیزائن لگ بھگ ایک جیسا ہی ہے۔

مگر اب گوگل کی جانب سے اس میں تبدیلی لائی جارہی ہے جس کا انتخاب صارف کو خود ہی کرنا ہوگا۔

گوگل نے ڈیسک ٹاپ صارفین کے لیے ڈارک تھیم کا فیچر متعارف کرا دیا ہے۔

اس ڈارک تھیم میں گوگل لوگو تو سفید رنگ کا رہے گا مگر باقی سب ڈارک گرے رنگ کا ہوجائے گا۔

یہ فیچر آنے والے ہفتوں میں سب صارفین کو دستیاب ہوگا اور ابھی چند افراد ہی اسے استعمالل کرسکتے ہیں۔

کمپنی کی جانب سے کچھ بتایا تو نہیں گیا مگر بظاہر یہ فیچر آئی پی ایڈریس کی بجائے گوگل اکاؤنٹ سے منسلک لگتا ہے۔

اسے استعمال کرنے کے لیے گوگل ہوم پیج یا سرچ رزلٹ پر اوپر موجود سیٹنگز کے آئیکون پر کلک کریں اور وہاں Appearance: Dark Theme پر کلک کریں۔

اگر یہ فیچر آپ کے اکاؤنٹ کے لیے ابھی دستیاب نہیں ہے تو یہ آپشن بھی نظر نہیں آئے گا۔

اگر یہ آپشن دستیاب ہوگا تو اس پر کلک کرنے پر ڈیوائس ڈیفالٹ، ڈارک تھیم اور لائٹ تھیم کے آپشنز نظر آئیں گے۔

اس فیچر کی آزمائش 2020 سے جاری تھی اور اب جاکر اسے متعارف کرانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

خیال رہے کہ گوگل نے 2018 میں بتایا تھا کہ آپریٹنگ سسٹم اور ایپس میں ڈارک موڈ کی موجودگی کسی ڈیوائس کی بیٹری لائف بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔

ڈارک موڈ ایسا آپشن ہے جو کہ کسی آپریٹنگ سسٹم یا ایپ کی کلر اسکیم کو بلیک یا گہری رنگت سے بدل دیتا ہے۔

اس موقع پر گوگل نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ نارمل موڈ کے مقابلے میں ڈارک تھیم سے یوٹیوب کو استعمال کرنے پر بیٹری پاور 43 فیصد کم استعمال ہوتی ہے، کیونکہ نارمل موڈ میں اسکرین بہت زیادہ سفیدی استعمال کرکے بیٹری تیزی سے خرچ کرتا ہے۔

مگر حیران کن طور پر گوگل نے اپنے سب سے زیادہ استعمال کیے جانے والے سرچ انجن میں یہ فیچر متعارف نہیں کرایا تھا۔

یہ فیچر گوگل سرچ کی موبائل ایپ کے ڈارک موڈ ورژن سے ملتا جلتا ہے جو صارفین کو مئی 2020 سے دستیاب ہے۔

واضح رہے کہ ڈارک موڈ کا استعمال اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ سے خارج ہونے والی روشنی سے آنکھوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button