بسم اللہ الرحمن الرحیم

کورونا وائرس

کورونا وائرس ، ملک بھر میں مزید31افراد جاں بحق

ملک بھرمیں عالمی وباء کوروناوائرس کے مزید31مریض انتقال کر گئے جس کے بعد ملک میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی کل تعداد22720تک پہنچ گئی جبکہ گذشتہ24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا وائرس کے2327نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ملک میں کوروناوائرس کے کیسز کے مثبت آنے کی شرح6.1فیصد تک پہنچ گئی  ۔ این سی او سی کے مطابق اب تک ایک کروڑ73لاکھ36ہزار845 افراد کو کوروناوائرس ویکسین کی پہلی خوراک لگائی جاچکی ہے جبکہ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران 4 لاکھ69ہزار312افراد کو کوروناوائرس ویکسین کی پہلی خوراک لگائی گئی۔ اب تک43لاکھ23ہزار805افراد کو مکمل کوروناوائرس کی ویکسین لگائی جاچکی ہے جبکہ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں1لاکھ14ہزار 343افراد کو کوروناوائرس  ویکسین کی دوسری خوراک لگائی گئی۔ اب تک ملک بھر میں کوروناوائرس ویکسین کی2 کروڑ16 لاکھ60ہزار650خوراکیں لگائی جاچکی ہیں جبکہ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک بھرمیں5 لاکھ83ہزار655کوروناوائرس ویکسین کی خوراکیں لگائی گئیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی اوسی)کی جانب سے جمعہ کے روز ملک میں کوروناوائرس کے حوالے سے جاری تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان اب تک کورکوناوائرس کے کل رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 9لاکھ83ہزار719تک پہنچ گئی ۔ اب تک ملک بھر میں کوروناوائرس کے9 لاکھ17 ہزار329مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ ملک میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد43670تک پہنچ گئی ۔ اس وقت ملک میں کوروناوائرس تشویشناک حالت میں موجود مریضوں کی تعداد2388تک پہنچ گئی۔ این سی اوسی کے مطابق پاکستان میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی شرح2.3فیصد جبکہ صحت یاب ہونے والے مریضوں کی شرح93.3 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کوروناوائرس کے956مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو کر گھروں کو چلے گئے۔ صوبہ سندھ ملک بھر میں کوروناوائرس کے کل رپورٹ ہونے والے کیسز اور فعال کیسز کے اعتبار سے ملک بھر میں پہلے نمبر پر آگیا جبکہ صوبہ پنجاب دوسرے نمبر پر ہے۔ دوسری جانب صوبہ پنجاب ملک بھر میں کوروناوائرس سے ہونے والی اموات اور صحت یاب ہونے والے مریضوں کے اعتبار سے ملک بھر میں پہلے جبکہ صوبہ سندھ دوسرے نمبر پر ہے۔این سی اوسی کے مطابق کوروناوائرس کے فعال کیسز کے اعتبار سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ملک بھر میں تیسرے  نمبر پر آگیا۔ اس وقت اسلام آباد میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد1909تک پہنچ گئی۔خیبر پختونخوا میں 1847۔صوبہ پنجاب میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد9275تک پہنچ گئی،صوبہ سندھ میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد27355تک پہنچ گئی ، صوبہ بلوچستان1304،آزاد جموں وکشمیر1176جبکہ گلگت بلتستان  میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد804تک پہنچ گئی ۔ این سی اوسی کے مطابق اب تک صوبہ سندھ میں کوروناوائرس کے3 لاکھ19ہزار445 مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں، صوبہ پنجاب3 لاکھ29ہزار344،خیبر پختونخوا133736،اسلام آباد81570،بلوچستان27082،آزاد جموں وکشمیر19859جبکہ گلگت بلتستان میں کوروناوائرس کے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد6293تک پہنچ گئی ۔ این سی اوسی کے مطابق اسلام آباد میںکورونا وائرس کے کل رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 84266تک پہنچ چکی ہے جبکہ خیبرپختونخوا ایک لاکھ 39 ہزار960، پنجاب 3 لاکھ 49ہزار475، سندھ 3 لاکھ 52ہزار472، بلوچستان28704، آزاد کشمیر21632اور گلگت بلتستان میں7210افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات صوبہ پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں10856افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں5672، خیبر پختونخوا میں4377، اسلام آباد میں787، گلگت بلتستان میں 113، بلوچستان میں318اور آزاد جموں و کشمیر میں597فراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔آزاد جموںوکشمیر میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی شرح تین فیصد، اسلام آباد ایک فیصد، گلگت بلتستان دو فیصد، بلوچستان ایک فیصد، خیبر پختونخوا تین فیصد، سندھ دو فیصد اور پنجاب میں تین فیصد تک پہنچ گئی ۔اب تک ملک بھر میں کوروناوائرس کے ایک کروڑ52لاکھ86 ہزار475ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں جبکہ گذشتہ24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کوروناوائرس کے37690نئے ٹیسٹ کئے گئے۔پاکستان میں کورونا کی ویکسینیشن  کا عمل جاری ہے اور 18سال یا اس سے زیادہ عمر والے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ملک بھر میں ایڈلٹ ویکسینیشن مراکز قائم کیے جا چکے ہیں اور ویکسینیشن کا تمام تر عمل ڈیجیٹل میکنزم سے کنٹرول کیا جارہا ہے۔ویکسینیشن کے لیے پنجاب میں 189 اور سندھ میں 14 مراکز قائم کیے گئے جبکہ خیبر پختونخوا میں 280، بلوچستان میں 44 اور اسلام آباد میں 14 ویکسی نیشن سینٹر قائم کیے جا چکے ہیں۔ آزاد کشمیر میں 25 اور گلگت بلتستان میں بھی 16 مراکز کے ذریعے ویکسی نیشن کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button