بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

لاپتہ افراد کیس، وفاقی سیکرٹری داخلہ عدالت میں پیش،غیر مشروط معافی مانگ لی

عدالتوں کا احترام کرتا ہوں، ناگزیر وجوہات پر جواب نہیں دے سکا،وفاقی سیکرٹری داخلہ

وفاقی سیکرٹری داخلہ نے لاپتا افراد کیس میں عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔سندھ ہائیکورٹ میں لاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی جس سلسلے میں عدالتی حکم پر وفاقی سیکرٹری داخلہ، ڈائریکٹر ہیومن رائٹس، اٹارنی جنرل اور دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے۔

دورانِ سماعت وفاقی سیکرٹری داخلہ نے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرایا اور عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ عدالتوں کا احترام کرتا ہوں، مصروفیات کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکا، اس پر جسٹس کے کے آغا نے سیکرٹری داخلہ سے مکالمہ کیا کہ آپ انتہائی اہم پوزیشن پر تعینات ہیں، عدالت نے کئی حکم نامے جاری کیے، جواب تک جمع نہیں کرایا گیا، مجبوراً عدالت کو ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنا پڑے، جبری گمشدگی کا مسئلہ انتہائی اہم ہے، اسے ختم کرنا ہوگا۔

عدالتی ناراضی پر سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ عدالتوں کا احترام کرتا ہوں، ناگزیر وجوہات پر جواب نہیں دے سکا، عدالت کو یقین دلاتا ہوں آئندہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کروں گا۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ تین افراد کے علاوہ دیگر کا معلوم نہیں ہوسکا ہے۔

جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ وفاقی وزارت داخلہ ملک کی پاور فل وزرات ہے، کیا ملک میں شہریوں کی جبری گمشدگی کاتاثر قابل قبول ہے؟ اس پر سیکرٹری داخلہ نےکہا کہ جبری گمشدگی بالکل قابل قبول نہیں۔اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت لاپتا افراد کے معاملے پر انتہائی سنجیدہ اقدامات کررہی ہے اور لاپتا افرادکی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 4 اگست تک ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button