بسم اللہ الرحمن الرحیم

بین الاقوامی

اسرائیل فلسطین میں بدترین خون کی ہولی کھیلنے کے بعد جنگ بندی پر راضی

جنگ بندی کے لیے امریکا، مصر اور قطر سمیت دیگر یورپی ممالک نے اپنا کردار ادا کیا

11 دن کی بدترین جارحیت کے بعد اسرائیل سیز فائر کیلئے راضی ہوگیا۔ غیر ملکی میڈیا کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق امرکا کے شدید دباو کے بعد اسرائیل غزہ پر گزشتہ 11 روز سے کی جانے والی وحشیانہ بمباری روکنے پر راضی ہوگیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں سیز فائر پر اتفاق ہونے کے بعد اسرائیلی کابینہ نے اس فیصلے کی باقاعدہ منظوری بھی دے دی۔
منگل کی صبح سے ہی خبریں سامنے آ رہی تھیں کہ غزہ میں گزشتہ 11 دنوں سے جاری اسرائیلی وحشیانہ بمباری کے بعد اب جنگ بندی کا امکان ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق غزہ میں گزشتہ 11 دنوں سے جاری اسرائیلی بمباری کے بعد اب اسرائیلی حکومت اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان جنگ بندی کا امکان ہے، مصری حکام نے حماس کی قیادت سے مذاکرات کیے ہیں جب کہ اسرائیلی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے فوجی اہداف حاصل کرلیے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق جنگ بندی کے لیے امریکا، مصر اور قطر سمیت دیگر یورپی ممالک نے اپنا کردار ادا کیا۔ ان ممالک کی جانب سے غزہ کی خراب صورتحال کے باعث اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور حماس کی قیادت پر کشیدگی ختم کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا گیا۔ جبکہ پاکستان، ترکی اور دیگر کچھ اسلامی ممالک سمیت اہم یورپی ممالک کی جانب سے بھی بھرپور دباو ڈال کر اسرائیل کو سیز فائر کرنے پر مجبور کیا گیا۔ تاہم سیز فائر ہونے سے قبل ہی گزشتہ 11 روز کے درمیان اسرائیلی اپنی ریاستی دہشت گردی کے ذریعے درجنوں معصوم فلسطینوں کو شہید اور ہزاروں افراد کے گھر تباہ کر چکا۔ اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد 240 سے زیادہ ہے، جبکہ ڈیڑھ ہزار سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button