بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

اللہ نے ہمیں ہر قسم کی نعمت دی ہے لیکن ہم نے فائدہ نہیں اٹھایا،وزیراعظم عمران خان

ی ڈی ایم کے نام سے ایک یونین بنی ہے جس کا مقصد ہے کہ ہمیں این آر او دے دو۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کے نام سے ایک یونین بنی ہے جس کا مقصد ہے کہ ہمیں این آر او دے دو۔لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت میں لوگ سڑکوں پر کورونا سے مر رہے ہیں، کورونا کی دو لہروں میں اللہ نے ہم پر بڑا کرم کیا ہے، سب کو ماسک پہننے کی تاکید کرتا ہوں، ثابت ہو گیا ہے کہ کورونا ماسک سے کورونا کنٹرول ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میری عمر پاکستان جتنی ہے، ایک مائنڈ سیٹ ہے کہ یہ چھوٹے سے طبقے کا پاکستان ہے، چھوٹے سے طبقے نے سارے نظام کو گھیرے میں لیا ہوا ہے، جیلوں میں صرف غریب لوگ نظر آتے ہیں، ہمارا انصاف کا نظام طاقتور کو نہیں پکڑ سکتا۔انہوں نے کہا کہ جب انگریز چھوڑ کر گیا تو سرکاری اسپتالوں میں بہترین علاج ہوتا تھا، آہستہ آہستہ امیروں کے لیے پرائیویٹ اسپتال بن گئے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لاہور میں آہستہ آہستہ کچی آبادیاں بنتے دیکھی ہیں، لاہور میں آلودگی نہیں تھی، آہستہ آہستہ لاہور بغیر پلاننگ کے پھیلتا گیا، امیروں اور غریبوں کے علاقے الگ ہو گئے، آج آدھے کراچی میں کچی آبادی ہے، کچی آبادی میں رشوت کے عوض بجلی اور گیس ملتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان میں شور مچا ہوا ہے، سب چور اکٹھے ہو گئے ہیں، 30 سال سے حکومت کرنے والے حکومت میں آنے سے پہلے کیا تھے؟ آج کھربوں پتی ہیں، وہ حساب دینے کے لیے تیار نہیں، خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے نام سے یونین بنی ہوئی ہے جس کا مقصد ہے کہ ہمیں این آر او دے دو، عام لوگوں کو بے شک جیل میں ڈال دو۔

ان کا کہنا تھا کہ بینک کو جب تک قرض واپس ہونے کا یقین نہیں ہو گا تو وہ قرض نہیں دے گا، پاکستان میں 0.2 فیصد ہاسنگ میں قرضہ دیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں سیمنٹ کی فروخت کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے، کنسٹرکشن ہاسنگ کی وجہ سے بے روزگاری کم ہو گی، اب تک کے اندازے کے مطابق اس سال گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے اور 11 ارب روپے کسانوں کے پاس اضافی گئے ہیں، 50 سال سے ہم نے زراعت کے بارے میں نہیں سوچا، زراعت میں نئی ٹیکنالوجی لائیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ نے ہمیں ہر قسم کی نعمت دی ہے لیکن ہم نے فائدہ نہیں اٹھایا، ٹورازم ایسا شعبہ ہے جس سے ایکسپورٹ سے زیادہ پیسہ کما سکتے ہیں، بدقسمتی سے کسی نے ٹورازم پر توجہ نہیں دی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عام لوگوں کے لیے قانون ہے اور طاقتور کے لیے قانون نہیں ہے، کمزور کو اوپر اٹھانے کی ذمہ داری ریاست کو لینی ہے، انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں 50، 50 سال کیس حل نہیں ہوتے، جو معاشرہ عام آدمی کو اوپر نہیں اٹھاتا وہ اوپر نہیں جاتا۔انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں کیس حل نہیں ہوتے، اس لیے قبضہ گروپ آ گئے، قبضہ گروپ کا ٹرائیکا بن گیا، جج، پولیس اور قبضہ گروپ مل گیا، کمزور لوگوں اور حکومت کی زمین پر قبضہ کیا جا رہا تھا، ہمیں طاقتور کو قانون کے نیچے لانا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button