
پاکستان آٹو موبیل صنعت پر مسابقتی کمیشن کی جامع جائزہ رپورٹ، وسیع اصلاحات کی سفارش
مسابقتی کمیشن پاکستان نے پاکستان کی آٹو موبیل صنعت سے متعلق جاری کردہ اپنی تازہ جائزہ رپورٹ میں شعبے کی بہتری کے لیے جامع اور طویل المدتی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آٹو موبیل صنعت تاحال اپنی اصل پیداواری صلاحیت سے کم سطح پر کام کر رہی ہے۔ مہنگی فنانسنگ، بار بار پالیسی میں تبدیلیاں اور معاشی عدم استحکام نے صنعت میں "اسٹارٹ اسٹاپ سائیکل” کو جنم دیا، جس کے باعث سرمایہ کاری کا تسلسل متاثر ہوا۔
کمیشن نے نشاندہی کی کہ غیر مستقل پالیسی، کمزور ادارہ جاتی ہم آہنگی اور ناقص ضوابط نے طویل المدتی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ رپورٹ میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی اسکیموں کو بھی مارکیٹ میں بگاڑ کا سبب قرار دیا گیا ہے، جس سے مقامی اسمبلرز کی حوصلہ شکنی ہوئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرانی اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں شہری علاقوں میں فضائی آلودگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں، جبکہ اسکریپنگ اور ری سائیکلنگ پالیسی کی عدم موجودگی کو ایک بڑی خامی قرار دیا گیا ہے۔
مسابقتی کمیشن نے برقی اور ہائبرڈ گاڑیوں کی جانب منتقلی اور نیو انرجی وہیکل پالیسی کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے آٹو موبیل صنعت کے لیے طویل المدتی اور مستحکم ٹیرف ڈھانچہ متعارف کرانے کی سفارش کی ہے۔
رپورٹ میں مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے قیام، پرانی گاڑیوں کے خاتمے کے لیے باقاعدہ اسکریپنگ پالیسی کی تشکیل اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے شفاف سرٹیفکیشن و ویلیوایشن نظام نافذ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
مزید برآں، صارفین کو سستی فنانسنگ کی فراہمی کے لیے طویل المدتی آٹو فنانس اور لیزنگ اسکیمیں متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ آئندہ آٹو پالیسی کو برآمدات، ویلیو ایڈیشن اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے مشروط مراعات پر مبنی بنانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پائیدار ترقی اور مسابقتی ماحول کے فروغ کے لیے پالیسی تسلسل اور ادارہ جاتی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔















