بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

ماسک پہن کر 72فیصد تک کورونا سے بچا جاسکتا ہے، ڈاکٹر یاسمین راشد

جو کہتے ہیں وبا نہیں ہے وہ بھارت کی وڈیوز دیکھیں، اگر احتیاط نہ کی تو مسئلہ بڑھ سکتا ہے، ویکسینشن لازمی کرائیں

صوبائی وزیرِ صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کا صوبے میں کورونا وائرس کی تازہ صورتِ حال سے متعلق کہنا ہے کہ جتنے مریض اسپتالوں میں آ رہے ہیں اس سے زیادہ صحت یاب ہو کر گھر جا رہے ہیں، پنجاب میں ایس او پیز پر سخت عمل درآمد ہوا، ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کی وجہ سے کورونا کیسز میں کمی آئی ہے۔ڈاکٹر یاسمین راشد نے پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ آج کورونا وائرس کے 901 کیس سامنے آئے ہیں، پہلی بار ایک ہزار سے کم کیس سامنے آئے ہیں، مہینہ پہلے روزانہ 4 ہزار نئے کیس آ رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ عوام ماسک کا استعمال کریں، عوام سے ایک ہی درخواست ہے کہ احتیاط کریں اور ماسک کا استعمال کریں، ماسک پہن کر کورونا سے 72 فیصد تک بچا جاسکتا ہے۔یاسمین راشد نے کہا کہ کورونا کی وبا گئی نہیں، ابھی ہمیں اس کے ساتھ رہنا ہے، ہمیں بہت احتیاط کی ضرورت ہے، سماجی فاصلے کا خیال رکھیں، جو کہتے ہیں وبا نہیں ہے وہ بھارت کی وڈیوز دیکھیں، اگر احتیاط نہ کی تو مسئلہ بڑھ سکتا ہے، ویکسینشن لازمی کرائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صوبے میں سائنو فام، کین سائنو، اسٹرا زینیکا کی ویکسین دی جا رہی ہے، سائنو فام کی دوسری ڈوز دی جارہی ہے، پاکستان نے 150 ملین ڈالر ویکسین کے لیے رکھے ہیں۔ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اسپتالوں کی صورتِ حال نسبتا بہتر ہے، اس وقت 2 ہزار 818 آکسیجن بیڈ ہیں، ان میں سے 1 ہزار 804 خالی ہیں، کورونا مریضوں کا مکمل طور پر مفت علاج ہوتا ہے، اگر کہیں کورونا مریضوں کے علاج کے پیسے لییجا رہے ہوں تو شکایت کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں وینٹیلیٹرز کی تعداد بڑھائی ہے اور کورونا کی وجہ سے 2 ہزار بیڈ مزید لگائے گئے ہیں، راولپنڈی کے امراضِ قلب کے اسپتال میں آکسیجن جنریٹر موجود ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ پنجاب کے تمام اسپتالوں میں آکسیجن جنریٹر مہیا کریں۔ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ عوام سے درخواست ہے کہ کورونا وائرس سے بچا کی ویکسی نیشن کرائیں، پنجاب میں 28 لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگ چکی، اگلے ہفتے مزید 8 ویکسی نیشن مراکز قائم کر دیئے جائیں گے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ این سی او سی نے پنجاب کو مئی میں مزید 1 لاکھ 40 ہزار ویکسی نیشن کا ہدف دیا ہے، راولپنڈی میں مریضوں کی جانب سے کوئی شکایت نہیں آئی۔یاسمین راشد نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ اگلے ماہ پنجاب کے لیے ویکسین کی علیحدہ پروکیورمنٹ کر رہے ہیں، ٹیسٹ کی صلاحیت بڑھا رہے ہیں، لیبارٹریز کی تعداد بھی بڑھائیں گے، راولپنڈی میں بھی ویکسی نیشن سینٹرز بڑھائے جائیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ اگلے ماہ سے ڈھائی سے 3 لاکھ اور پھر 4 لاکھ لوگوں کو روزانہ ویکسین لگائی جائے گی، ہیلتھ ورکرز میں 2 لاکھ 87 ہزار کو کورونا وائرس سے بچا کی دوسری ڈوز لگ چکی ہے۔

وزیرِ صحت پنجاب نے اپنی بیماری سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے 8 آپریشن ہوئے اور سب پاکستان میں ہوئے، نواز شریف جب ہمارے پاس آئے تو ٹھیک تھے، شہباز شریف کو کہتی ہوں کہ وہ پاکستان میں رہیں، یہیں بہترین علاج ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پوری کوشش ہے کہ نامکمل اسپتال جلد مکمل ہوجائیں، حکومت صحت کی سہولت کو پرائیویٹائز کر رہی ہے، اگلے ہفتیڈی جی خان اور ساہیوال میں ہر فرد کو ہیلتھ کارڈ ملے گا، بجٹ میں ہر فرد کو ہیلتھ کارڈ دیا جائے گا۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ لاہور میں کورونا وائرس کے کیسز کم ہوئے ہیں، راولپنڈی میں بھی کمی آئی ہے، ساہیوال، خانیوال، گجرات، ننکانہ صاحب، لودھراں، راجن پور، لیہ، اوکاڑہ، پاک پتن میں کوروناوائرس کے پھیلا کی شرح 8 فیصد سے کم ہے، پنجاب میں 8 بجے کے بعد ہر قسم کی کاروباری سرگرمی پر پابندی ہے۔

انہوں نے ڈینگی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈینگی پر روزانہ میٹنگز ہورہی ہیں، اس سال ڈینگی کی فیگر 2019 جیسی نظر آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button