
ذیابیطس اور وزن کم کرنے کی پاکستانی دوا چار گنا سستی، غیر ملکی جتنی مؤثر
پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کی 24ویں سالانہ کانفرنس پیس کون 2026 میں ماہر امراض ہارمون ڈاکٹر نعمان نیاز نے انکشاف کیا کہ شوگر اور وزن کم کرنے کی پاکستانی دوا غیر ملکی دوا جتنی مؤثر ثابت ہوئی ہے، مگر قیمت میں تقریباً چار گنا کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستان میں کروڑوں مریض جدید علاج کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے، اس لیے دوا مؤثر ہونے کے ساتھ اتنی سستی بھی ہونی چاہیے کہ مریض اسے باقاعدگی سے خرید سکے۔”
تین روزہ کانفرنس کے دوران پیش کی گئی تحقیق میں ایک ہزار مریضوں کا ایک سال تک جائزہ لیا گیا، جس میں مقامی اور غیر ملکی دوا کے نتائج تقریباً یکساں رہے۔ دونوں گروہوں میں شوگر کنٹرول اور وزن میں اوسطاً 5.4 کلوگرام کمی ریکارڈ ہوئی، جبکہ مضر اثرات بھی ملتے جلتے تھے۔
دیگر ماہرین نے کم قیمت متبادل ادویات کی اہمیت پر زور دیا۔ ڈاکٹر ایس عباس رضا نے کہا کہ ایسے مریض کو مہنگی دوا تجویز کرنا "گناہ” ہے جو اسے خرید نہ سکے، اور اس بات پر زور دیا کہ مریضوں کو مسلسل دوا کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ پروفیسر سعید اے مہر نے مزید مقامی تحقیق کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ پروفیسر خورشید احمد خان نے پاکستانی کمپنیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کم قیمت ادویات غریب مریضوں کے لیے علاج جاری رکھنے کا ذریعہ ہیں۔ماہرین نے گیٹز فارما کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقامی کمپنیوں کی جدید اور کم قیمت ادویات کم آمدن والے مریضوں کے لیے امید کی کرن ہیں۔















