بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے یا موڑنے کی کوئی کوشش جنگ تصور ہوگی، وزیراعظم

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے اور دریاؤں کو اقوام کو تقسیم کرنے کے بجائے ان کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔

81ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے فیصلے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں، جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ معاہدہ بدستور مؤثر اور پابند ہے۔

وزیراعظم نے جنوبی ایشیا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خطے کو دوبارہ جنگ کے دہانے تک نہیں پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حرمین شریفین کی سلامتی کو ریڈ لائن قرار دیا اور کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کے لیے اہم راستے ہیں، جنہیں کشیدگی کا مرکز نہیں بننا چاہیے۔

شہباز شریف نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کو دفاع، علاقائی استحکام اور امن کے لیے اجتماعی عزم قرار دیا اور کہا کہ یہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔

دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے اور افغان حکام کو اس حوالے سے قابلِ تصدیق اور فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے افغان عوام، بالخصوص خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق کے احترام پر بھی زور دیا۔

وزیراعظم نے فلسطین کے حوالے سے آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ موسمیاتی تبدیلی، عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات، ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی معاونت اور اسلاموفوبیا کے خاتمے پر بھی پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کا مقصد زیادہ نمائندہ، جمہوری اور جوابدہ نظام تشکیل دینا ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button