قومی اسمبلی نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ اور مسلسل سفارتی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے متفقہ قرارداد منظور کر لی، جس میں کہا گیا کہ پاکستان نے ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر عالمی سطح پر اپنی ساکھ مزید مستحکم کی ہے۔
یہ قرارداد وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ قرارداد میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور مذاکراتی عمل میں شامل پوری ٹیم کی کاوشوں کو سراہا گیا۔
قرارداد میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی، کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے تاریخی معاہدے کو ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کو مبارکباد پیش کی گئی۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث بھی جاری رہی۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ مہنگائی کے موجودہ حالات کے پیش نظر ناکافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملازمین کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے تنخواہوں میں کم از کم دس فیصد اضافہ کیا جائے۔
راجہ پرویز اشرف نے زور دیا کہ ملک کی معاشی سمت متعین کرنے اور بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی پر بھی زور دیا تاکہ ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
رکن اسمبلی محمد اعجاز الحق نے بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے چار فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف ناکافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے معاشی شرح نمو کو کم از کم چھ سے سات فیصد تک بڑھانا ضروری ہے۔
