بھارت میں خواتین کیخلاف جرائم کو روکنے کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت
ہر گھنٹے خواتین کیخلاف 43 جرائم ریکارڈ کیے جاتے ہیں: بھارتی اپوزیشن کانگریس
بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا ہے کہ ملک میں خواتین کے خلاف مظالم کے واقعات بار بار ہو رہے ہیں اور مودی حکومت نے گزشتہ 10 برسوں میں ان کو روکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا، اس لیے اس سمت میں سب کو مل کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں کھڑگے نے کہا، ہماری خواتین کے ساتھ ہونے والی کوئی بھی ناانصافی ناقابل برداشت، تکلیف دہ اور انتہائی قابل مذمت ہے ۔ ہمیں بیٹی بچاو کی نہیں بیٹی کے لیے مساوی حقوق کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ "خواتین کو تحفظ نہیں، خوف سے پاک ماحول کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر گھنٹے میں خواتین کے خلاف 43 جرائم ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ روزانہ 22 جرائم ایسے ہیں جو ہمارے ملک کے سب سے کمزور دلت قبائلی برادری کی خواتین اور بچوں کے خلاف درج ہوتے ہیں۔ ایسے بے شمار جرائم ہیں جو درج ہی نہیں ہوتے ڈرسے، خوف سے، سماجی وجوہات کی وجہ سے۔
وزیر اعظم مودی جی نے لال قلعہ پر اپنی تقریروں میں کئی بار خواتین کی حفاظت کی بات کی ہے، لیکن ان کی حکومت نے گزشتہ 10 برسوں میں ایسا کچھ ٹھوس نہیں کیا، جس سے خواتین کے خلاف جرائم میں کچھ کمی ہو۔ اس کے برعکس ان کی پارٹی نے کئی بار متاثرہ کی کردار کشی بھی کی ہے، جو کہ شرمناک ہے۔
کانگریس صدر نے کہا، "کیا ہر دیوار پر بیٹی بچاو پینٹ کرنے سے سماجی تبدیلی آئے گی یا حکومتیں اور امن و امان موثر ہو جائے گا؟ کیا ہم حفاظتی اقدامات کرپارہے ہیں؟ کیا ہمارا نظام انصاف بہتر ہوا ہے؟ کیا معاشرے کے استحصال زدہ اور محروم طبقے اب ایک محفوظ ماحول میں رہنے کے قابل ہیں؟ کیا حکومت اور انتظامیہ نے واردات کو چھپانے کی کوشش نہیں کی ہے؟ کیا پولیس نے متاثرین کی آخری رسومات زبردستی کرنا بند کردیا ہے ، تاکہ حقیقت سامنے نہ آسکے؟
مسٹرکھڑگے نے کہا، ہمیں سوچنا ہوگا کہ جب 2012 میں دہلی میں نربھیا کے ساتھ واقعہ پیش آیا تو جسٹس ورما کمیٹی کی سفارشات نافذ ہوئی تھیں، کیا آج ہم ان سفارشات کو پوری طرح نافذ کرنے میں کامیاب ہیں؟
کیا 2013 میں کام کی جگہ پر خواتین کے خلاف جنسی جرائم کی روک تھام سے متعلق ایکٹ کے التزامات پر صحیح طریقے سے عمل کیا جا رہا ہے، جس سے کام کی جگہ پر ہماری خواتین کے لیے خوف سے پاک ماحول پیدا ہوسکے؟ آئین نے خواتین کو برابری کا درجہ دیا ہے۔ خواتین کے خلاف جرائم ایک سنگین مسئلہ ہے۔