
انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کیخلاف جاری تحقیقات سے متعلق اہم پیش رفت جاری کردی
انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (ITA) نے پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے خلاف جاری تحقیقات اور قانونی کارروائی سے متعلق اہم پیش رفت جاری کر دی ہے، جس میں متعدد شخصیات پر سخت سزائیں عائد کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حافظ عمران بٹ (سابق صدر) اور عرفان بٹ (سابق کوچ) کو کورٹ آف آربیٹریشن فار اسپورٹ کے اینٹی ڈوپنگ ڈویژن (CAS ADD) نے تاحیات نااہلی کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ ستمبر 2014 سے نومبر 2016 کے دوران اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزیوں پر 20 مارچ 2026 کو سنایا گیا۔
عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ دونوں افراد پاکستانی ویٹ لفٹنگ میں بڑے پیمانے پر ڈوپنگ میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے اور کھلاڑیوں، حتیٰ کہ نابالغ ایتھلیٹس کو بھی ممنوعہ ادویات فراہم کرتے تھے۔ سزا کے تحت وہ اب ورلڈ اینٹی ڈوپنگ کوڈ کے تحت کسی بھی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔
دوسری جانب پاکستانی ویٹ لفٹر ابوبکر غنی کو بھی ڈوپنگ کنٹرول کے عمل میں چھیڑ چھاڑ (ٹیمپرنگ) کے جرم میں چار سال کی پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ CAS ADD نے 6 مارچ 2026 کو اپنے فیصلے میں کہا کہ ایتھلیٹ نے جعلی طبی نسخے پیش کیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ابوبکر غنی پہلے بھی یکم فروری 2022 سے 31 جنوری 2024 تک ممنوعہ مادہ “ٹیموکسیفین” کے استعمال پر دو سال کی پابندی کاٹ چکے ہیں، تاہم نئی تحقیقات میں جعلی دستاویزات بنانے کا انکشاف ہونے پر ان پر مزید چار سال کی پابندی عائد کر دی گئی ہے، جو 5 مارچ 2030 تک برقرار رہے گی۔
مزید برآں، پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن پہلے ہی 20 جون 2025 سے ایک سال کی معطلی کا سامنا کر رہی ہے، کیونکہ 12 ماہ کے دوران اس سے وابستہ تین سے زائد ایتھلیٹس اور عملے نے اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ حالیہ کیسز کی روشنی میں فیڈریشن کے خلاف مزید کارروائی بھی متوقع ہے، جبکہ تمام متعلقہ فریقین کو کورٹ آف آربیٹریشن فار اسپورٹ کے اپیل ڈویژن میں فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔















