بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

ابتدائی نتائج کی تیاری اور نتائج اعلان نے منظم الیکشن کو گہنا دیا، فافن

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے پاکستان میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے ابتدائی مشاہدہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔چئیرپرسن فافن مسرت قدیم کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ملک میں دو برس سے جاری افراتفری کے بعد الکشن ہوئے، یکساں مواقع نہ ملنے اور دہشت گردی کے خطرات کے باوجود سیاسی جماعتوں نے الیکشن میں حصہ لیا۔

فافن رپورٹ میں بتایا گیا کہ 8 فروری کو ملک میں ہونے والے انتخابات میں 5کروڑ سے زیادہ افراد نے ووٹ ڈالا، الیکشن کمیشن نے انتخابی مشق کو منعقد کیا جو قابل ستائش ہے تاہم ابتدائی نتائج کی تیاری اور نتائج اعلان نے منظم الیکشن کو گہنا دیا ہے۔فافن چیئرپرسن نے کہا کہ انتخابات سے ملک میں بے یقینی کا دور بند ہو گیا ہے، اب سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں استحکام کو یقینی بنائیں، امیدوارں کے نتائج پر تحفظات الیکشن کمیشن کو جلد حل کرنے کی ضرورت ہے۔

مشاہدہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں ووٹر ٹرن آوٹ 48 فیصد رہا ، 63 فیصد پولنگ اسٹیشن پر زیادہ ووٹر تھے، کوئی حلقہ ایسا نہیں جہاں خواتین نے 10 فیصد سے کم ووٹ ڈالا ہو، الیکشن میں 12 خواتین منتخب ہوئی ہیں جبکہ 8 آزاد امیدوار بھی منتخب ہوئے جن کو کسی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں تھی۔فافن رپورٹ کے مطابق سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں ووٹ بینک قائم رکھا، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک بڑھا جبکہ پی ٹی آئی کا ووٹ بینک برقرار رہا۔

Back to top button