بسم اللہ الرحمن الرحیم

جموں و کشمیر

سرینگر: سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپ، ایک فوجی ہلاک، 5 زخمی۔

سرینگر(ساوتھ ایشین وائر)

مقبوضہ کشمیر میں پرانے شہر سری نگر کے علاقے نواکدل میں کنی مزار کے مقام پر پولیس، سی آر پی ایف اور عسکریت پسندوں کے مابین رات 2 بجے کے قریب شدید جھڑپ کاآغاز ہوا۔ خیال کیا جارہا تھا کہ علاقے میںحزب المجاہدین کے معروف حریت پسند کمانڈر جنید صحرائی اور حزب کے اعلیٰ کمانڈر غازی حیدرآپریشن میں گھیرے میں ہیں۔علاقے میں کچھ نوجوانوں نے سیکورٹی فورسز پر پتھراو بھی کیا۔جاری تصادم  میں ایک ایس او جی اہلکار ہلاک اور 5 دیگر زخمی ہوگئے۔سری نگر شہر میں آخری مقابلہ اکتوبر 2018 میں ہوا تھا ، جب لشکر طیبہ کے کمانڈر بنگرو ایک ساتھی سمیت شہید ہو گئے تھے۔اطلاعات کے مطابق پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ ٹیم نے نواکدل میں کورڈن اینڈ سرچ آپریشن شروع کیا۔جب فورسز کی مشترکہ ٹیم مشتبہ مقام پرپہنچی تو عسکریت پسندوں اور پولیس کے مابین فائرنگ شروع ہو گئی ۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ایک سینئر پولیس افسر نے بھی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے کی تصدیق کی۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر سری نگر میں فون اورموبائل انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئیں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ضلع سرینگر میں 2000سے اب تک 245مختلف واقعات میں 526افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ 722واقعات میں 850افراد شہید کئے گئے جن میں399شہری شامل ہیں۔ضلع سرینگر میں اسی عرصے میں 385سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔سرینگر میں 21خود کش حملوں میں 55سیکورٹی اہلکار ہلاک اور 185زخمی ہوئے۔ سرینگر میں اسی عرصہ کے دوران 483دھماکوں کے واقعات میں 2762افراد زخمی ہوئے جن میں815 سیکورٹی اہلکار شامل ہیں۔دھماکوں کے ان واقعا ت میں112سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔اسی دورانئے میں پولیس کے مطابق 277واقعات میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔منگل کی صبح ضلع شوپیان کے گاوں چیک چولان میں 34 آر آر ، پولیس اور سی آر پی ایف 178 بی این نے ایک کارڈن اینڈ سرچ آپریشن شروع کیا۔راجوری ضلع کے بودھل علاقے میں پیر کی شام عسکریت پسندوں کے حملے میں تین افراد زخمی ہوگئے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق شام کے وقت راجوری کے علاقے بودھل میں مشتبہ عسکریت پسندوں نے پولیس پارٹی پر حملہ کیا۔حملہ آوروں کی گرفتاری کے لئے پورا علاقہ سیل کردیا گیا ۔جنوبی کشمیر کے ترال علاقے میں فورسز نے ایک عسکری کمانڈر کے بھائی سمیت دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق فورسز نے ایس او جی ترال کے ساتھ مشترکہ طور پر رٹھسونہ نامی گاں کا محاصرہ کر لیا اور بعد ازاں سخت تلاشی سلسلہ جاری رکھا۔تاہم سہ پہر کو محاصرہ ختم کر لیا گیا لیکن فوج نے اپنے ساتھ دو افراد سیار احمد شاہ اور عادل احمد حجام ساکنہ رٹھسونہ کو گرفتار کر لیا۔

ساوتھ ایشین وائر کے ذرائع کے مطابق سیار احمد شاہ انصار الغزو الہند کے مقامی کمانڈر امتیاز احمد شاہ کا بھائی ہے جسکی تلاش فوج کو ایک عرصے سے ہے۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب55اور 33آر آر کے علاوہ سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے پلوامہ کے مورن قصبہ میں داخل ہونے والے تمام راستے بند کردیئے۔پولیس کو مورن میں جنگجوئوں کی موجودگی کی مصدقہ طور پر اطلاع ملی تھی۔القمرآن لائن کے مطابق فورسز نے رہمو ، گوسو،اشمندر، کنگن اور ڈاڈورہ نامی دیہات سے مورن کی طرف جانے والی سڑکوں کو بند کردیا تاکہ آس پاس کے دیہات سے قصبہ کی طرف آنے والی کسی بھی قسم کی نقل و حمل کو روکا جاسکے۔بح کے وقت جب محاصرہ طویل ہواتو مورن میں نوجوانوں نے نعرے بازی کی جس کے بعد فورسز نے طاقت کا استعمال کر کے شیلنگ کی۔ طرفین کے درمیان پتھرائو اور شلنگ کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ، جس کے باعث کئی افراد زخمی ہوئے۔اونتی پورہ پولیس نے پوست کی غیر قانونی کاشت کرنے کے خلاف چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن کے خلاف باضابطہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button