وزیراعظم شہباز شریف نے ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے چاروں صوبوں کی مشاورت سے ایک ہفتے کے اندر جامع اور مربوط حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کر دی۔
وزیراعظم نے یہ ہدایت جمعرات کو اسلام آباد میں انسدادِ پولیو سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پولیو سے پاک بنانا ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم قوم کا عزم اور ارادہ اس چیلنج سے زیادہ مضبوط ہے۔
شہباز شریف نے وفاقی وزیر صحت، وزیر مملکت، وفاقی سیکریٹری صحت اور انسدادِ پولیو ٹیم کے ارکان کو فوری طور پر چاروں صوبوں کے دورے کرنے اور متعلقہ وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکریٹریز سے ملاقاتیں کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے ملک میں پولیو کے حالیہ کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسدادِ پولیو کی کوششیں تیز کرنے اور حکمت عملی بہتر بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے بالخصوص پولیو سے متاثرہ اور زیادہ خطرے والے علاقوں میں معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کی کوریج بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے انسدادِ پولیو مہم میں فرنٹ لائن ورکرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ویکسین پلانے والی ٹیموں کی بلا تعطل رسائی اور ان کی سکیورٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ آج خیبر ضلع سے پولیو کا ایک نیا کیس سامنے آیا ہے، جس کے بعد رواں سال ملک میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 9 ہوگئی ہے۔
ان میں سے 7 کیسز خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوئے، جن میں خیبر اور بنوں سے تین، تین جبکہ شمالی وزیرستان سے ایک کیس شامل ہے۔ خیبر ضلع کے تینوں کیسز افغانستان سے آنے والے پولیو وائرس سے منسلک ہیں۔
سندھ سے بھی دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں ایک کراچی ایسٹ اور دوسرا ضلع سجاول سے ہے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ افغانستان سے سرحد پار آمدورفت پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔
بریفنگ کے مطابق پنجاب میں فروری 2025 کے بعد پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، جبکہ بلوچستان میں 2025 اور 2026 کے دوران کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان پہلے ہی پولیو سے پاک ہیں۔
اجلاس کو سندھ میں ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی میں کمی سے بھی آگاہ کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ انسدادِ پولیو ٹیموں کی سکیورٹی بہتر بنانے اور خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع تک ان کی رسائی یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
