پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) نے جامعہ کراچی کے اشتراک سے ذیابیطس کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک آگاہی نشست کا انعقاد کیا، جس کا مقصد پاکستان میں ذیابیطس کے تشویشناک حد تک بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو اجاگر کرنا اور الٹرا پروسیسڈ غذائی مصنوعات پر فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز (FOPWLs) کو لازمی قرار دینے کی فوری ضرورت پر زور دینا تھا۔
مقررین نے پاکستان میں ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن (IDF) کے مطابق پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 45 لاکھ بالغ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں، جبکہ عمر کے لحاظ سے معیاری شرحِ پھیلاؤ 31.4 فیصد ہے، جو دنیا کی بلند ترین شرحوں میں شامل ہے۔ غیر صحت بخش غذائی عادات، میٹھے مشروبات اور الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا بے تحاشا استعمال، موٹاپا اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی صحتِ عامہ کے اس سنگین مسئلے میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پناہ کے جنرل سیکرٹری ثنا اللہ گھمن نے کہا کہ ذیابیطس ایک قومی طبی ہنگامی صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے، جس کے باعث خاندانوں اور صحت کے نظام پر بھاری مالی اور سماجی بوجھ پڑ رہا ہے۔ بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن (IDF) کے مطابق صرف ذیابیطس کے علاج اور دیکھ بھال پر سالانہ 2.64 ملین امریکی ڈالر خرچ ہوتے ہیں، جو ہمیں ملنے والی آئی ایم ایف کی قسط سے دوگنا ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ الٹرا پروسیسڈ غذائی مصنوعات کی پیکنگ پر چینی، نمک اور غیر صحت بخش چکنائی کی ضرورت سے زیادہ مقدار سے متعلق واضح اور نمایاں انتباہی علامات کو لازمی قرار دے کر ذیابیطس کی روک تھام میں اہم کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صارفین، خصوصاً بچے اور نوجوان، اکثر غیر صحت بخش غذائی مصنوعات کے غذائی خطرات سے آگاہ ہوئے بغیر ان کا استعمال کرتے ہیں۔ فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز انہیں ایک ہی نظر میں زیادہ چینی والی مصنوعات کی شناخت کرنے، غیر صحت بخش غذاؤں کے استعمال کی حوصلہ شکنی اور صحت مند غذائی انتخاب کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔ ذیابیطس کی روک تھام کا آغاز ایک صحت مند غذائی ماحول کی فراہمی سے ہونا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں پر زور دیا کہ وہ مزید تاخیر کیے بغیر فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے لازمی نفاذ کے عمل کو تیز کریں۔
جناب غفران سعید نے احتیاطی صحت کے فروغ اور طلبہ کو صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دینے میں جامعات کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز صحتِ عامہ کے تحفظ کا ایک اہم اقدام ہیں، جو صارفین کو غذائیت سے متعلق تفصیلی معلومات کی ضرورت کے بغیر زیادہ چینی، نمک اور غیر صحت بخش چکنائی والی مصنوعات کی فوری شناخت میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
محترمہ عبیرہ محین نے صحت مند غذائی انتخاب اور ذیابیطس کی روک تھام کے حوالے سے، خصوصاً نوجوانوں میں، عوامی آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
پناہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ذیابیطس اور خوراک سے منسلک دیگر غیر متعدی امراض (NCDs) میں کمی لانے اور آنے والی نسلوں کی صحت کے تحفظ کے لیے مؤثر غذائی لیبلنگ، عوامی آگاہی اور حکومت کے مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔
