افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت سے پاکستان کا دوٹوک اور اصولی مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے اندر دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔ عرب نیوز کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان کا صرف یہی ایک مطالبہ ہے اور اگر اس مسئلے کو حل کر لیا جائے تو دیگر معاملات بھی درست ہو سکتے ہیں، تاہم اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستان اپنی ریاستی ذمہ داری کے مطابق کارروائی کرے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر طالبان حکومت دوحہ معاہدے کے تحت افغان سرزمین کو دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کی اپنی یقین دہانیوں پر عمل نہیں کرتی تو پاکستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کو افغانستان یا افغان عوام سے کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ مسئلہ غیر جامع اور غیر نمائندہ طالبان حکومت سے ہے، جو دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور انہیں پناہ فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ آوروں میں تقریباً 80 فیصد افغان شہری ہیں اور افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والی ہر دہشت گرد تنظیم میں افغان شہری موجود ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں، وہ بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے بقول بلوچستان میں دہشت گردوں کا مقصد صوبے کو محرومی کا شکار رکھنا ہے، کیونکہ صوبہ ترقی کرے گا تو عوام مشکلات اور پابندیوں سے نکل آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے اور بیرون ملک سے سوشل میڈیا مہمات چلا رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے، پاکستان دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کرتا بلکہ ان کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستانی قیادت سعودی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم غیر مشروط ہے اور یہ دونوں ممالک کے تاریخی، جذباتی اور ناقابلِ شکست تعلق پر مبنی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان حرمین شریفین کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور مکہ دفاعی معاہدے اور اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے۔

Exit mobile version