کوہاٹ دھماکے میں افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کا انکشاف

کوہاٹ کی مسجد میں ہونے والے دھماکے کا سراغ افغانستان تک پہنچ گیا ہے، جس سے افغان طالبان حکومت کے دوہرے معیار کے حوالے سے سوالات اٹھے ہیں۔

دھماکے میں ملوث خودکش حملہ آور کی شناخت افغان شہری متی اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ دوسرے دہشت گرد کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

افغان شہری کی دھماکے میں ملوث ہونے کی شناخت اس بات کا ثبوت قرار دی گئی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کی جا رہی ہے۔

گزشتہ ماہ غلام خان کے قریب افغانستان سے دراندازی کی کوشش کرنے والے 15 دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے۔ اسی طرح جنوبی وزیرستان میں بھی سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دراندازی کی کوشش ناکام بنائی اور 5 خوارج کو ہلاک کیا۔

گزشتہ رات کرم کے قریب سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والی دہشت گردوں کی ایک تشکیل کو بھی چوکس پاکستانی فوجی اہلکاروں نے ناکام بنا دیا۔

خبر کے مطابق اقوام متحدہ اور عالمی میڈیا کی متعدد رپورٹس میں بھی افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردی کی سرپرستی کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان کی سرزمین پر 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں، جن میں فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان بھی شامل ہیں۔

Exit mobile version