جنرل ضیاءالحق شہید کی برسی پر مجاہد ملت اور اسیر زندان پیرعبدالصمد انقلابی کا خراج عقیدت

کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ و مجاہد ملت اور اسیرزندان پیر عبدالصمد انقلابی نے سرینگر سے جاری اپنے پیغام میں شہید جنرل محمد ضیاء الحقؒ کی برسی کے موقع پر ان کی قومی و اسلامی خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے۔ آمین

سینئر حریت رہنما ومجاہد ملت اور اسیرزندان پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ 17اگست کادن ہر سال آتا ہے اور خاموشی سے گزر جاتا ہے، لیکن 17اگست 1988پاکستان کی تاریخ میں کوئی عام دن نہیں ہے۔ یہ محض دیوار پر لٹکے ہوئے کیلنڈر کی تاریخ بدلنے کا دن نہیں، بلکہ وطنِ عزیز میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے داعی، پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانیوالے اور ملک کو اقوامِ عالم میں ممتاز مقام دلانے والے معمارِ قوم، صدر جنرل محمد ضیا الحق شہید کی یاد کا دن ہے۔ سینئر حریت رہنما ومجاہد ملت اور اسیر زندان پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ جنرل ضیا الحق کے دورِ حکومت میں جہاں ایک طرف افغانستان کو غاصب سوویت یونین کی غلامی سے نجات دلانے کا معرکہ لڑا گیا، وہیں دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے غاصبانہ تسلط سے آزادی دلانے کا پختہ عزم بھی کیا گیا۔ پاکستان کے دشمنوں کو یہ بات کسی طور پسند نہیںتھی، چنانچہ ایک منظم اور گہری عالمی سازش اور انکے مقامی سہولت کاروں کے ذریعے ہم سے ہمارا بیدار مغز قائد چھین لیا گیا ۔ آج اگر اس گہری سازش کا پردہ اٹھایا جائے تو بہت سے مکروہ چہرے بے نقاب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ صدر جنرل محمد ضیا الحق آج جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں، لیکن ملکی سرحدوں کی حفاظت، اندرونی سلامتی اور اسلامی نظامِ زندگی کے عملی نفاذ کیلئے ان کے تاریخی اقدامات آج بھی ایک روشن مثال ہیں۔

سینئر حریت رہنما و مجاہد ملت اور اسیرزندان پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ صدر جنرل محمد ضیا الحق ایک راسخ العقیدہ مسلمان اورسچے عاشقِ رسول ﷺ تھے جنکی ذاتی زندگی پر کبھی کرپشن یا بددیانتی کا کوئی داغ نہ لگ سکا۔ گیارہ سال تک ملک کے مطلق العنان حکمران اور آرمی چیف رہنے کے باوجود ان کی عاجزی و انکساری کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے کبھی اپنے خاندان یا بچوں کیلئے کوئی سیاسی منصب، مل، فیکٹری یا جاگیر نہیں بنائی۔جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے کل اثاثے محض دو لاکھ روپے تھے۔17 اگست 1988 ءکو بہاولپور کے قریب سی130 طیارے کے دردناک حادثے میں صدر جنرل محمد ضیا الحق اپنے 29 جلیل القدر فوجی جرنیلوں، افسران اور جوانوں کیساتھ شہید ہو گئے۔ وہ اس وقت بھی اپنی فوجی وردی میں ملبوس تھے اور اسی حالت میں اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ اس حادثے کی تحقیقات کیلئے انکوائری بورڈز اور’’جسٹس شفیع کمیشن‘‘بھی قائم کیا گیا، لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ شہدا کے لواحقین آج تک انصاف کے منتظر ہیں کہ یہ سازش کہاں تیار ہوئی اور اس میں کون ملوث تھا؟ آج جنرل محمد ضیا الحق کے طیارے کا مقدمہ اگرچہ اللہ کی عدالت میں ہے جہاں دیر ہے اندھیر نہیں، مگر تاریخ کے اوراق میں انکی دینی، ملی اور قومی خدمات سدا تابندہ رہیں گی۔

Exit mobile version