بھارتی فورسز اور تحقیقاتی اداروں نے بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کریک ڈاؤن، نگرانی اور پابندیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ چھاپوں، گرفتاریوں اور اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغنوں کا سلسلہ جاری ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز اور تحقیقاتی اداروں نے بارہمولہ ضلع کے سوپور اور ملحقہ علاقوں میں 26 مقامات پر تلاشی کارروائیاں کیں۔ یہ کارروائیاں جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کے خلاف سخت گیر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت درج مقدمات کے سلسلے میں کی گئیں۔
تلاشی کارروائیوں کے دوران متعلقہ علاقوں اور اطراف میں بھارتی فورسز کی بھاری نفری تعینات رہی۔
آل پارٹیز حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالراشد منہاس نے سرینگر میں جاری بیان میں عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارتی بی جے پی حکومت کو اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ متنازع خطے جموں و کشمیر میں بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی سے روکے۔
اے پی ایچ سی نے کشمیر کاز کے لیے پاکستان کی حمایت کو سراہتے ہوئے اسے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے حوصلے اور طاقت کا ذریعہ قرار دیا۔
دوسری جانب جموں و کشمیر سول سوسائٹی فورم نے مقبوضہ علاقے میں نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری توجہ کا متقاضی اہم سماجی و معاشی مسئلہ قرار دیا ہے۔
ادھر مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاستی حیثیت کی بحالی میں مسلسل تاخیر پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے اپنے وعدے پر عمل درآمد نہ ہونے سے عوامی اعتماد متاثر ہوا ہے۔
