کبھی کھیل کو سیاست سے الگ رکھنے کی بات کی جاتی تھی، مگر آج کی دنیا میں کھیل صرف مقابلے کا نام نہیں رہا بلکہ یہ کسی بھی ملک کی ساکھ، سماجی اقدار اور انسانی حقوق کے بارے میں عالمی رائے عامہ کا آئینہ بھی بن چکا ہے۔ افغانستان کی کرکٹ ٹیم گزشتہ دو دہائیوں میں دنیا کی کامیاب ترین ابھرتی ہوئی ٹیموں میں شمار ہوتی رہی ہے، لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طالبان حکومت کی اندرونی پالیسیاں کھیل کے میدانوں تک بھی پہنچ چکی ہیں۔
آئرلینڈ اور افغانستان کے درمیان آئندہ ون ڈے سیریز سے قبل سامنے آنے والی صورتحال اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ کرکٹ آئرلینڈ نے اگرچہ سیریز کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں، لیکن اصل تشویش کسی دہشت گرد حملے کی نہیں بلکہ ممکنہ عوامی احتجاج کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے اس سیریز کو طالبان حکومت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں خواتین پر عائد پابندیاں عالمی سطح پر شدید تنقید کا باعث بنی ہیں۔ خواتین کی تعلیم، ملازمت، کھیلوں میں شرکت اور سماجی زندگی پر عائد سخت پابندیوں نے افغانستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی کی طرف دھکیلا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک اور ادارے اب افغانستان کے ساتھ کھیلوں کے تعلقات کو بھی صرف کھیل کے زاویے سے نہیں دیکھ رہے۔
یہ حقیقت بھی قابلِ توجہ ہے کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ جیسے کرکٹ بورڈز افغانستان کے خلاف دوطرفہ سیریز سے گریز کرتے رہے ہیں، اگرچہ وہ آئی سی سی کے عالمی ٹورنامنٹس میں افغانستان کے خلاف کھیلتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ معاملہ صرف کرکٹ نہیں بلکہ اخلاقی اور سفارتی دباؤ کا بھی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی خبردار کیا ہے کہ افغانستان کے خلاف یہ سیریز طالبان حکومت کے لیے "تشہیر” کا ذریعہ نہیں بننی چاہیے۔ تنظیم نے کرکٹ آئرلینڈ، آئی سی سی اور کھلاڑیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کے مسئلے پر خاموش نہ رہیں۔ اس مطالبے نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے: کیا کھیل کو انسانی حقوق سے مکمل طور پر الگ رکھا جا سکتا ہے؟
یہاں ایک اور پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان کے مرد کرکٹرز نے برسوں کی محنت سے عالمی سطح پر اپنی شناخت بنائی ہے۔ ان کھلاڑیوں کی کامیابیاں کسی سیاسی جماعت یا حکومت کی مرہونِ منت نہیں بلکہ ان کی ذاتی محنت، قربانیوں اور صلاحیتوں کا نتیجہ ہیں۔ تاہم جب کسی ملک کی حکومتی پالیسیاں عالمی تنقید کا مرکز بن جاتی ہیں تو اس کے اثرات اکثر ان کھلاڑیوں تک بھی پہنچتے ہیں، چاہے ان کا ان پالیسیوں سے کوئی تعلق نہ ہو۔
اگر عالمی سطح پر احتجاج، بائیکاٹ یا سفارتی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا سب سے بڑا نقصان انہی افغان کھلاڑیوں کو پہنچ سکتا ہے، جو صرف کھیل کے ذریعے اپنے ملک کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں۔ کھیل کے مواقع محدود ہونے، بین الاقوامی دوروں میں مشکلات اور مسلسل تنقید ان کے کیریئر پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ افغان کرکٹ کا مستقبل خطرے میں ہے، لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر افغانستان میں انسانی حقوق، خصوصاً خواتین کے حقوق، سے متعلق عالمی خدشات برقرار رہے تو ان کے اثرات کھیلوں پر بھی مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
کھیل ہمیشہ قوموں کو قریب لانے کا ذریعہ رہا ہے۔ مگر جب کسی ملک کے اندر انسانی حقوق سے متعلق سنگین سوالات جنم لیتے ہیں تو کھیل بھی ان سوالات سے لاتعلق نہیں رہ پاتا۔ افغانستان کے لیے اصل چیلنج صرف میدان میں میچ جیتنا نہیں، بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ہے جس سے دنیا یہ یقین کر سکے کہ کھیل، تعلیم اور بنیادی انسانی حقوق سب کے لیے یکساں اہم ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو افغان کھلاڑیوں کو تنازعات سے دور رکھ کر ان کے مستقبل کو زیادہ محفوظ بنا سکتا ہے۔
