پاکستان نے یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے نئے سرے سے مذاکرات شروع کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلے کا حل صرف بامقصد اور مسلسل سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے یوکرین میں جاری تنازع کے مزید بڑھنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور دیرپا امن صرف سنجیدہ، مسلسل اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2774 پر عملدرآمد کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے فوری اور مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کیا تاکہ سفارت کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو اور مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد و اصولوں، تمام فریقین کے جائز سیکیورٹی مفادات اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں کے مطابق باہمی طور پر قابلِ قبول پُرامن حل ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان یوکرین تنازع کے منصفانہ، جامع، پائیدار اور پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
