سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ بھارت مقبوضہ کشمیرکا ملٹری کے ذریعے بھی کچھ نہ کرسکا اس لیے آزاد کشمیر میں آگ لگائی ہے، ہمیں پتا تھا جے اے اے سی (ایکشن کمیٹی) کا ایجنڈا کیا ہے، یہ کدھر سے آرہے ہیں۔
اعلیٰ سکیورٹی حکام نے صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا پہلا نشان حیدر کشمیر سے ہے، فوج میں 40 فیصد کے قریب جوان کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، ہمارا ایشو دہشت گرد رجیم سے ہے نہ کہ وہاں کی عوام سے، آزادکشمیر میں حقوق کی تحریک سے آغاز کیا گیا، ہمارا ڈیفالٹ آپشن ہمیشہ بات چیت ہوتی ہے، اصل کہانی کیا ہے یہ سامنے آنے میں وقت لگا، ہمیں پتا تھا جے اے اے سی کا ایجنڈا کیا ہے، یہ کدھر سے آرہے ہیں۔
پاکستان امریکا ایران معاملے میں ایک بہت پیچیدہ ایشوکوڈیل کررہا ہے، فیلڈ مارشل کی اس معاملے میں دلچسپی کی وجہ امن اوراستحکام ہے: سکیورٹی ذرائع
سکیورٹی ذرائع کے مطابق آزادکشمیر حکومت نے لوگوں کو کہا ہے اپنی دکانیں کھولیں، ناکے ان کی جانب سے لگائےگئے ہیں، جے اے اے سی نے عوام کو کہا ہے جو دکانیں کھولےگا ہم آگ لگا دیں گے، آزادکشمیر حکومت پولیٹیکل پراسیس فالو کر رہی تھی، آزاد کشمیر میں بیٹھ کر ریاست مخالف نعرے لگائے جا رہے ہیں، ریاست پیار محبت سے ڈیل کر رہی ہے، ریاست ہمشہ پہلے ماں بن کے ڈیل کرتی ہے بعد میں باپ بنتی ہے، ہر لمحے جے اے اے سی مزید کھل کر سامنے آرہی ہے، ان کو آئینی،قانونی طریقے سے ڈیل کیا جائےگا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی نے بھی پیسا لگایا، کیا وہ وہاں کے مسلمانوں کو خرید سکتے ہیں؟ مقبوضہ کشمیر میں نقل و حرکت اور اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے، کیا وہاں سے پاکستان کے لیے لوگوں کے جذبات سامنے نہیں آئے، بھارت مقبوضہ کشمیرکا ملٹری کے ذریعےبھی کچھ نہ کرسکا اس لیے آزاد کشمیر میں آگ لگائی ہے۔
سکیورٹی ذرائع نےکہا کہ ہمارے اندرونی چیلنجز میں دہشت گردی بھی ہے، اب جنگ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہوچکی ہے، اس تناظر میں بجٹ کم ہے، ملٹری اور سیاسی لیڈر شپ کو بھی اس کا احساس ہے، اس کے برعکس دیکھیں تو بھارت کا بجٹ کتنا ہے؟
سکیورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم بی ایل اے کے بڑے اسپانسر بڑے سردار بھی ہیں، یہ بلوچستان میں سرمایہ کاری نہیں آنے دینا چاہتے، پاکستان کے یو اے ای کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان معاملے میں نہ پڑتا تو مسلم امہ میں کون یہ جنگ رکواسکتا تھا، سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح ہے، بھارت سندھ طاس معاہدے پر یکطرفہ فیصلہ نہیں کرسکتا، اپنے مفادات کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع نےکہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی ملاقات نہیں ہوئی، 9 مئی کرنے اور کروانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے، جو روپوش ہیں تو قانون اپنا راستہ لےگا۔
