کُل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ جموں کشمیر میں کشمیریوں کی سرزمین اور شناخت کے تحفظ کیلئے مداخلت کرئے سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے سرینگر سے جاری اپنے ایک پیغام میں کہا کہ مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت سے لاحق خطرات پر مسلم اکثریتی علاقے میں ہندوتوا نظریہ مسلط کرنا چاہتی ہے۔
مسلم ملازمین کو سرکاری ملازمتوں سے برطرف کرنے، تعلیمی اداروں میں ہندو بھجن گانا اور اسکولوں، کالجوں، سڑکوں اور نشانات کے نام مسلمانوں کے ناموں سے تبدیل کرنے جیسی مثالیں دیں۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے معروف سینر حریت رہنما شبیر احمد شاہ کو بھارتی سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود رہا نہ کرنے اور بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے "این آئی اے” کی طرف سے 1996 کے ایک اور پرانے جھوٹے مقدمے میں ملوث کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔
سینئرحریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شبیر احمد شاہ کو ان کی پرامن سیاسی جدوجہد کی پاداش میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سینئر حریت رہنما شبیر احمد شاہ کی گرتی ہوئی صحت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور عالمی برادری سے ان کی رہائی کے لیے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ بھارتی جیلوں اور جموں کشمیر کے جیلوں جموں کشمیر کے حریت پسند رہنماؤں کی حالت زار پر عالمی برادری کو خاموشی توڑنی چاہیے
