اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے ترجمان نے پولیس کی جانب سے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ پیر عبدالصمد انقلابی کے گھر پر پولیس چھاپے، کے دوران پولیس اسٹیشن ترال میں نظربند کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انکی بگڑتی ہوئی صحت کی صورتحال ایک مسلہ ہے لیکن پولیس انھیں نئے نئے مقدمات میں گرفتار کرنے کی موقعوں کی تلاش میں رہتی ہے جموں کشمیر میں لاقانویت قائم ہے اور یہاں عملاً پولیس اور فوج کا راج قائم ہے۔ اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے ترجمان نے پولیس کی ان کارروائیوں کو ریاستی دہشت گردی کی زندہ مثالیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مذموم ہتھکنڈوں سے ریاستی عوام کے جذبہ آزادی کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔
اسلامی تنظیم آزادی کے ترجمان نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما پیر عبدالصمد انقلابی کی صحت کی خرابی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انہیں ملنے والی صحت کی ناکافی سہولیات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
بیان میں تنظیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’بھارت عبدالصمد انقلابی کو باقاعدہ علاج سے محروم رکھ کے مرنے دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ’اپنی صحت کے خراب ہونے اور کمزوری کے باوجود پیر عبدالصمد انقلابی بھارتی حکمرانوں سے سمجھوتہ کرنے پر تیار نہیں ہیں۔‘
